Skip to main content

Shah Dulha ke Chohe Kon Hain.?


آپ نے بھی میری طرح کئی بار شاہ دولہ کے چوہوں کو دیکھا ہو گا کبھی ان سے خوف کھایا ہو گا اور کبھی ان پر ترس بھی کھایا ہوگا، دل میں ان کی بیچارگی کا خیال بھی آیا ہو گا.کیا آپ نےکبھی یہ سوچا کہ یہ شاہ دولہ کے چوہے کیا ہوتے ہیں کہاں سے آتے ہیں اور ان کا کیا مصرف ہوتا ہے.



شاہ دولہ ایک مزار ہے جو گجرات میں ہے اور ہر سال اس کا عرس بھی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے.. یوں ہوتا ہے کہ جن بچوں کے سر پیدائشی طور پر چھوٹے ہوتے ہیں ان کو اس مزار پر بھیج دیا جاتا ہے جہاں ان کو پالا جاتا ہے اور پھر بڑے ہونے پر بھیک مانگنے کے کام پر لگا دیا جاتا ہے. بعض ماں باپ جن کی اولاد نہیں ہوتی یا ہوتی ہے اور مر جاتی ہے یا کسی اور سبب سے، منت مانگتے ہیں کہ وہ اپنا بچہ شاہ دولہ کے مزار کی نذر کر دیں گے.ایسے بچے گو پیدائشی طور پر صحت مند ہوتے ہیں مگر ان کے سر پر ایک آہنی خول چڑھا دیا جاتا ہے اور پھر ان کا سر چھوٹا ہی رہ جاتا ہے. اب ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد رہ جاتا ہے جو کہ بھیک مانگنا ، کھانا اور پھر بھیک مانگنا ہوتا ہے. ایسے لوگ ذہنی طور پر بھی چھوٹے رہ جاتے ہیں اور سوچنے سمجھنے کے قابل رہتے ہیں نہ زنگی کی بھاگ دوڑ میں حصّہ لے سکتے ہیں.
ہم پاکستانی بھی جب پاکستان بنا اور ہم پیدا ہوئے تو بہت صحت مند تھے بڑے توانا تھے ایک نظریے کی کوکھ سے جنم لیا تھا اور دنیا لرزہ بر اندام تھی کہ نہ جانے یہ دنیا میں کیا کر گزریں گے. اگر عالم اسلام کے یہ قائد بن گئے تو عالم اسلام کہیں کفر کی طاغوتی قوتوں کو ملیا میٹ ہی نہ کر دے پاش پاش ہی نہ کر دے.

پھر دنیا بھر کے قابل ترین ذہن سر جوڑ کر بیٹھے اور انہوں نے پاکستان میں موجود اپنے ایجنٹوں سے رابطہ کیا جو سیاست میں بھی تھے، بیوروکریسی میں بھی، فوج میں بھی اور صنعت کاروں میں بھی اور پھر انہوں نے پاکستانی قوم کو شاہ دولہ کا چوہا بنانے کا فیصلہ کر لیا

اس مقصد کے لئے انہوں نے ایک بڑے ہی آسان اور سیدھے راستے کا انتخاب کیا اور اپنے ایجنٹوں کو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی اور صلے میں ان کی اور ان کی نسلوں کے مفادات کے تحفظ کا ذمہ اٹھایا.فیصلہ یہ کیا گیا کہ اس ملک کے لوگوں کے ذہنوں پر انگلش کا خول چڑھا دیا جائے. یہ تمام عمر اس خول میں ہی قید رہیں، نہ ان کی علم تک رسائی ہو، نہ ان کو تحقیق کا پتا چلے، نہ سائنس کا، نہ ٹیکنالوجی کا اور ہمارے ایجنٹ ان کو بتاتے رہیں کہ انگلش ہی ترقی کا واحد ذریعہ ہے انگلش سے ہی سائنس اور ٹیکنالوجی کے دروازے کھلتے ہیں اور دنیا میں رابطے کی واحد زبان انگلش ہے.66 سال ہو گئے یہ خول چڑھی ہوئے پاکستانی قوم دولے شاہ کے چوہوں کا روپ دھار چکی ہے، وہ قوم جس نے دنیا کا امام بننا تھا انگریزی کی غلام بن چکی ہے، اس کو بھی روٹی، پیسے اور کرسی کے سوا کچھ نہیں چاہیے، دنیا بھر میں بھکاری اور گداگر کے نام سے پہچانی جاتی ہے، جس کا جی چاہتا ہے جوتے اتروا لیتا ہے، جو چاہے کپڑے اتار لیتا ہے، جس کو جتنی دیر چاہیں کسی بھی جگہ روک کر پوچھ گچھ شروع کر دیتے ہیں اور اس عمل کے لئے مقام، وقت اور دورانئے کی کوئی قید نہیں

ہمیں بھی اب صرف دو وقت کی روٹی چاہیے، چاہے اس کی جو بھی قیمت دینی پڑے، شاہ دولہ کے چوہوں کو بھی تو یہی چاہیے.کل صبح جب منہ دھونے کے لئے آئینے کے سامنے کھڑے ہوں تو اپنی شکل کو غور سے دیکھیں اور ہاں سر کے سائز پر ضرور غور کریں


Popular posts from this blog

The Three Mountains Junction View Point

The Three Mountains Junction View Point 1- #karakoram 2- #himalaya 3- #hindukash #pharonkikasam #junction #river #hunza #skardu #pakistan #touroftheworld #gilgit #indusriver

Blue Water Lake (Jheel) | New Discovery of Sarim Noor | Pakistan's Largest Lake | Program KHOJ | Team ORS

New Discovery of Team KHOJ: Team Khoj has discovered a very beautiful tourist site. Team KHOJ has Discovered a very beautiful, clean, and freshwater lake in very nearest to Karachi City. Karachians can go to this lake easily and get enjoy this beautiful lake in summer. Keenjhar Jheel is a very popular place in Sindh, and every karachians is going there. Keenjhar Jheel, also called karli jheel, but keenjhar jheel situations are very bad, very dusty, and a huge of people every day during the season and also very expensive. that's why Sarim Noor decided to discover a new tourist site like kenjhar jheel. Sarim Noor went with Team Khoj went to the opposite side of keenjhar jheel by boat, and they discovered a very beautiful place for tourists. this place is called Gajjo Point and many other names, but simply, this is the opposite side of Keenjhar Jheel. There is no huge number of people. The water is very clean and has no dust and no rush, you can enjoy and spend a beautiful time and ...

Coronavirus Vaccine Pakistan

پاکستان میں کون کون سی ویکسین لگائی جا رہی ہے؟ پاکستان میں اس وقت سرکاری سطح پر چین کی تیار کردہ سائنو فارم، کنسائنو اور سائنو ویکس ویکسین لگائی جا رہی ہیں، جب کہ نجی سطح پر روس کی تیار کردہ 'اسپوتنک فائیو' ویکسین لگائے جانے کا عمل جاری ہے۔ پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے 'کوویکس' پروگرام کے تحت برطانیہ کی 'آکسفرڈ یونیورسٹی' کی تیار کردہ 'ایسٹرا زینیکا' ویکسین لگائے جانے کا عمل بھی شروع کر دیا گیا ہے اور اطلاعات کے مطابق 40 سال سے زائد عمر والے افراد کو اب ایسٹرا زینیکا ویکسین لگائی جا رہی ہے۔ 1۔سائنو فارم چین کے ادارے چائنہ نیشنل بائیو ٹیک گروپ کے ماتحت ادارے بیجنگ انسٹیٹیوٹ آف بائیو لوجیکل پروڈکٹس کی تیار کردہ سائنو فارم ویکسین، مردہ وائرس سے تیار کی گئی ہے، جس کی 21 دن کے وقفے سے دو خوراکیں لگائی جاتی ہیں۔ سائنو فارم ویکسین کی آزمائش ارجنٹائن، بحرین، مصر، مراکش، پاکستان، پیرو اور متحدہ عرب امارات کے 60 ہزار سے زائد افراد پر گزشتہ برس دسمبر میں کی گئی تھی۔ عالمی ادارہٴ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق سائنو فارم ویکسین 79 فی صد مؤثر ہے۔ دوسری خور...