Skip to main content

The buffalo of a landlord.- Sarim Noor

کسی زمیندار کی بھینس نے دودھ دینا بند کر دیا ، زمیندار بڑا پریشان ھوا ، اسے ڈاکٹر کے پاس لے کر گیا ، ڈاکے نے ٹیکے لگائے لیکن کوئی فرق نہ پڑا ، تھک ھار کر وہ بھینس کو شاہ جی کے پاس لے گیا ، شاہ جی نے دھونی رمائی ، دم کیا ، پھونک ماری لیکن وہ بھی بے سود رھی بھینس کو کوئی فرق نہ پڑا ۔ اس کے بعد وہ بھینس کو کسی سیانے کے پا
س لے گیا ، سیانے نے دیسی ٹوٹکے لگائے لیکن وہ بھی بےکار ثابت ھوئے ، آخر میں زمیندار نے سوچا کہ شاید اس کا کھانا بڑھانے سے مسئلہ ٹھیک ھو جائے تو وہ اسے ماں جی کی خدمت میں لے گیا ، ماں نے خوب کھل بنولہ کھلایا ، پٹھے کھلائے کسی چیز کی کسر نہ چھوڑی لیکن بھینس نے دودھ دینا شروع نہ کیا۔ لاچار ھو کر وہ اسے قصائی کے پاس لے کر جانے لگا کہ یہ اب کسی کام کی نہیں تو چلو ذبح ھی کروا لوں ، راستے میں اسے ایک سائیں ملا۔ سائیں بولا پریشان لگتے ھو ، زمیندار نے اپنی پریشانی بیان کی ، سائیں نے کہا " تم کٹا کہاں باندھتے ھو؟ " ، زمیندوار بولا بھینس کی کھُرلی کے پاس ۔ سائیں نے پوچھا " کٹے کی رسی کتنی لمبی ھے؟ " زمیندار بولا "کافی لمبی ھے" سائیں نے اونچا قہقہہ لگایا اور بولا " سارا دودھ تو کٹا چُنگ جاتا ھے تمھیں کیا ملے گا ، کٹے کو بھینس سے دور باندھو"

قومی اسمبلی اور سینٹ کی 50 کمیٹیاں ھیں اور ھر کمیٹی کا ایک چیئرمین ھے۔ ھر چیئرمین کے ذاتی دفتر کی تیاری پر 1994 میں دو دو کڑور روپے خرچ ھوئے تھے۔ ھر چیئرمین ستر ھزار روپے ماھانہ تنخواہ لیتا ھے ، اسے گریڈ 17 کا ایک سیکرٹری ، گریڈ 15 کا ایک سٹینو ، ایک نائب قاصد ، 1300cc کی گاڑی ، 600 لیٹر پٹرول ماھانہ ، ایک رھائش۔ رھائش کے سارے اخراجات بل وغیرہ اس کے علاوہ ملتے ھیں اس کے علاوہ اجلاسوں پر لگنے والے پیسے ، دوسرے شھروں میں آنے جانے کے لئیے فری جہاز کی ٹکٹ ۔ ایک اندازے کے مطابق یہ کمیٹیاں اب تک کھربوں روپوں کا دودھ " چُنگ" چُکی ھیں

یہ اجلاس اسی طرح جاری رھیں گے اور یہ کٹے ایسے ھی کھربوں روپوں کا دودھ "چُنگتے" رھیں گے ، پیٹ پر پتھر باندھنے اور کفایت شعاری کے بھاشن صرف عوام کے لئیے ھیں
منقول


Popular posts from this blog

Blue Water Lake (Jheel) | New Discovery of Sarim Noor | Pakistan's Largest Lake | Program KHOJ | Team ORS

New Discovery of Team KHOJ: Team Khoj has discovered a very beautiful tourist site. Team KHOJ has Discovered a very beautiful, clean, and freshwater lake in very nearest to Karachi City. Karachians can go to this lake easily and get enjoy this beautiful lake in summer. Keenjhar Jheel is a very popular place in Sindh, and every karachians is going there. Keenjhar Jheel, also called karli jheel, but keenjhar jheel situations are very bad, very dusty, and a huge of people every day during the season and also very expensive. that's why Sarim Noor decided to discover a new tourist site like kenjhar jheel. Sarim Noor went with Team Khoj went to the opposite side of keenjhar jheel by boat, and they discovered a very beautiful place for tourists. this place is called Gajjo Point and many other names, but simply, this is the opposite side of Keenjhar Jheel. There is no huge number of people. The water is very clean and has no dust and no rush, you can enjoy and spend a beautiful time and ...

Sadqa Ke Ihkaam ‎| صدقہ کے کیا احکام ہیں

*السلام علیکم! مفتی صاحب صدقہ کے کیا احکام ہیں؟ کیا صرف بکرا ذبح کر کے تقسیم کرنا ہی صدقہ ہے؟ اگر بکرا ذبح کرنا ہی صدقہ ہے تو کیا یہ صرف مدرسہ میں دیا جائے گا یا خود ذبح کر کے بانٹ دیا جائے؟* سائل: محمد علیمقام: کراچی تاریخ اشاعت: 30 مارچ 2017ء زمرہ: صدقات | صدقہ فطر جواب: اﷲ ورسول کی رضا کے لئے ہر نیک کام سرانجام دینا صدقہ ہے، لیکن اﷲ کی راہ میں مال خرچ کرنا صدقہ کے لئے زیادہ مشہور ومعروف ہو گیا ہے۔ صدقہ کی تین اقسام ہیں: فرض: صاحب نصاب پر زکوٰۃ اور زمین میں فصل کی پیداوار پر عشر فرض ہیں۔ واجب: نذر، صدقہ فطر اور قربانی وغیرہ نفل: عام خیرات وصدقات جو کوئی بھی مسلمان اﷲ و رسول کی رضا کی خاطر مال خرچ کرے یا کوئی بھی نیک کام کرے، نفل صدقات میں شامل ہے۔ فرض اور واجب صدقات کے مصارف قرآن وحدیث میں بیان کر دئیے گئے ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَالْمَسٰکِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اﷲِ وَابْنِ السَّبِيْلِ ط فَرِيْضَةً مِّنَ اﷲِ ط وَاﷲُ عَلِيْمٌ حَکِيْمٌo بے شک صدقا...

Ant ‎Goodness ‎and ‎Talent ‎| ‏چیونٹیوں ‏کی ‏خوبیاں ‏

سائنس دانوں نے دریافت کیا کہ چیونٹیاں اناج اور بیجوں کو جمع کرنے کے بعد! ان کو زمین میں لے جانے اور انہیں زمین کے اندر اپنے بِلوں میں رکھنے سے پہلے دو حصوں میں توڑ دیتی ہیں، کیونکہ اگر اناج و بیج دو حصوں میں تقسیم نہ کیا جائے تو وہ زمین کے اندر ہی پھوٹ جاتا ہے ہرا ہوجاتا...  انھوں نے حیرت سے کہا کہ چیونٹیاں دھنیا کے بیج کو چار حصوں میں تقسیم کرتی ہیں، کیونکہ ایک دھنیا کا بیج ہی ہے جو دو حصوں میں بٹنے کے بعد بھی پھوٹ سکتا ہے، اس لیے چیونٹیاں اس کو چار حصوں میں کاٹ کر تقسیم کرتی ہیں پھر اپنے بلوں کے اندر محفوظ کر کے رکھتی ہیں.... سوچنے کی بات..! ان سب کو یہ کس نے سکھلایا...؟ یقیناً میرے اور آپ کے بلکہ ساری کائنات کے وحدہ لاشریک رب نے تو اس کی پاکی بیان کیجیے.... (#روایات_فیس_بکیہ_سے_ایک) سبحان الله وَ بِحَمدہ سبحان اللہ العظیم...