Skip to main content

Posts

Hazra Naimat Ullah Shah Wali Predictions about Pakistan India War

پاک بھارت جنگ 850 سال پہلے حضرت نعمت اللہ شاہ کی پشین گوئیاں مستقبل کی پیش گوئی کرنا اہل دانش اور اہل علم کی روایت ہے ، اہل دانش کی نظر ایک صدی سے زیادہ آگے نہیں دیکھ سکتی لیکن اہل علم پر وقت کی کوئی قید نہیں اور اللہ جنہیں دیکھنے کی صلاحیت عطا کرے اُن کی نگاہیں اہل نجوم کی طرح حال دیکھنے کی محتاج نہیں ہوتیں۔ حضرت نعمت اللہ شاہ کا تعلق ایران سے تھا اور آج سے 850 سال پہلے اُنہوں نے اپنے فارسی اشعار میں دُنیا کے متعلق بہت سے پیش گوئیاں کیں اور اُن کی پیش گوئیوں کی سچائیوں نے دور حاضر میں اہل دانش کو ورطہ حیرت میں ڈال رکھاہے۔ نعمت اللہ شاہ صاحب کے اشعار جن میں انہوں نے آنے والے وقت کے متعلق بتایا ہے کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے اس آرٹیکل میں ہم نعمت اللہ شاہ صاحب کے اُن اشعار کو شامل کررہے ہیں جن میں انہوں نے ہندوستان پاک و ہند کے متعلق پیش گوئیاں کیں جن میں سے بہت سی ماضی میں پوری ہوگئیں اور باقی مستقبل میں پُوری ہوتی دیکھائی دے رہی ہیں۔ ماضی میں پُوری ہونے والی چند اہم پیش گوئیاں راست گوئیم بادشاہ در جہاں پیدا شود نام او تیمور شاہ صاحبقراں پیدا شود ترجمہ( میں سچ بتات...

Who are they with indian pilot

یہ بظاہر چار چہروں پر مشتمل ایک عام سی تصویر لگ رہی ہے۔ جس میں جنگی قیدی بننے والے بھارتی پائلٹ ابھینندن کو اس کے ملک بھارت کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ بظاہر تو یہی دکھ رہا ہے، لیکن یہ تصویر اتنی معمولی بھی نہیں ہے۔ اس تصویر کیلئے خاصی تیاری کی گئی ہے۔ ابھینندن کو بھارتی حکام کے حوالے کرنے کیلئے اس سے بھی دراز قامت کے فوجی افسر کا انتخاب اتفاق نہیں۔ اس مضبوط قد کاٹھ کے کیپٹن فیصل کے ساتھ ابھینندن سکڑا سہما سا لگ رہا ہے، یہی پیغام بارڈر پار دیا جانا تھا۔ پھر ابھینندن کے ساتھ جو اجرک والی خاتون ہیں، بظاہر تو وہ فارن سول سروس سے تعلق رکھتی ہیں ، مگر خاص بات یہ ہے کہ ان کا تعلق بگٹی قبیلے سے ہے۔ بھارت بگٹی قبیلے کے زریعے ایک عرصے سے بغاوت کو بڑھاوا دینے کی کوشش کر رہا ہے، اسی طرح سندھ میں بھی علیحدگی پسند قوم پرست جماعتوں پر بھارت خاصا مہربان ہے۔ اس تناظر میں اجرک لئے ہوئے بگٹی بلوچ قبیلے کی فارن آفیسر کا انتخاب بھارت کیلئے ایک واضح پیغام ہے کہ ہم متحد ہیں۔

War is not war, it is fought

جنگ ہوتی نہیں ،جنگ کروائی جاتی ہے جنگ کوئی کھیل نہیں، جنگ مذاق بھی نہیں، جنگ اپنے  ہمراہ تباہی و بربادی اور وحشت و بربریت لے کر آتی ہے، دنیا کا کوئی بھی مہذب اور متمدن انسان جنگ کو پسند نہیں کرتا۔لیکن یہی جنگ بے اصول ، ضمیر فروش اور اسلحے کے بیوپاریوں کے لئے کاروباری منافع لے کر آتی ہے۔چنانچہ جنگ ہوتی نہیں بلکہ مخصوص اہداف کے لئے مختلف  ممالک و مسالک کے درمیان کروائی جاتی ہے۔ پاک بھارت موجودہ  جنگ میں پاکستانی افواج نے جس جرات و بہادری کا مظاہرہ کیا وہ بے مثال ہے۔ہمیں جہاں اپنے فوجی جوانوں کی خدمات کو سراہنا چاہیے، ان کے فداکاری اور جانثاری کو سلام پیش کرنا چاہیے وہیں ان کی ہر ممکنہ اخلاقی  و سیاسی مدد کرنا بھی ہماری دینی وملی ذمہ داری ہے۔ ہمیں یہ جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کونسی قوتیں ہیں جو پاکستان کو جنگ میں دھکیلنا چاہتی ہیں، وہ کون سے عناصر ہیں جنہیں پاکستان کی ایٹمی طاقت اور فوجی قوت سے خطرہ ہے، وہ کونسے ممالک ہیں جو پاکستان کو جھکانے کے لئے اسے فوجی اور عسکری طور پر کمزور کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔  آپ صرف فروری کے مہینے کو ہی سامن...

India is fool friend - DG ISPR

کچھ دن پہلے DGISPR نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ھمارا دشمن یعنی انڈیا بے وقوف ھے  یہ بہت معنی خیز جملہ تھا کسی نے اس جملے کے خدوخال پر توجہ نہیں دی مگر اصل میں یہ بہت گہری بات تھی اور اس میں انڈیا کے لئے پورا سبق ھے گریٹر اسرائیل کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے امریکہ اسرائیل نے پوری اسلامی دنیا کو تخت و تاراج کردیا اب صرف دو ایسے اسلامی ممالک باقی ھے جو گریٹر اسرائیل کی راہ میں رکاوٹ ھیں پاکستان اور ترکی اسرائیل اور امریکہ نے افغانستان میں بیٹھ کر پچھلے 17 سال سے پاکستان کو گھیرنے کی کوشش کی مگر پاک فوج اور ائی ایس آئی نے ان کی ایک بھی چال کامیاب نہ ھونے دی اور ان کو ایک مشکل ترین اور صبر ازما خفیہ جنگ میں شکست دے دی اپ لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ امریکہ اپنی شکست کو اتنی اسانی سے بھول جائے گا اور پاکستان کو ارام سے بیٹھنے دے گا سوال ہی پیدا نہیں ھوتا  میدان جنگ میں امریکہ شکست کھانے کے بعد اب دوسرا طریقہ استعمال کر رہا ھے اسرائیل اور امریکہ نے اب انڈیا کو پاکستان کے خلاف بھڑکایا ھے اور مودی کو اقتدار کا لالچ دے کر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے پر اکسایا ھے  کیونکہ ا...

Book Review: Qurani Falsafa e Inqalab

Book Review Qurani Falsafa e Inqilab  - 1 Qurani Falsafa e Inqilab - 2   Author: Prof. Dr. Tahir-Ul-Qadri Reviewe r: Sheikh Nadeem Ahmed   Since the inception of human life in the world, God Almighty revealed Messengers for the salvation and amelioration of Human beings. Their teachings were meant to lead human beings to the righteous path and guide them for attaining better life. With the emergence of Holy Prophet and revelations of the Quran the religion of Islam ascended to its zenith. He too conveyed the message of God just like His predecessors and vowed about ensuring the welfare of Human beings. The Quran emphatically asserts that those who adhere to the teachings of God and Messengers earn enviable place here and here-after and those who fail to capitalize upon, are destined to be ruined. Today, the Ummah of the Holy Prophet (PBUH) has been passing through a critical time. The perpetual decline in the Muslim world is attributed to social, econ...

Ek Alim e Deen Imamat ki Nokri se Baizaar Kiu?

ایک عالمِ دین امامت کی نوکری سے بیزار کیوں؟   ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ 44 ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﻓﺮ ﺍ ﺋﺾ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺭﻫﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﯾﮧ ﻓﺮﺍئض 27 ﺳﺎﻝ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﮰ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﻮﻧﭗ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺩﺍﻋﯽ ﺍﺟﻞ ﮨﻮﮰ ، ﺍﺏ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻭﮨﯽ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺣﺎﻓﻆ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﮐﻮﺳﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ، ﻣﮕﺮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻓﻆ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﺳﮯﺩﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﭘﺮ ﻏﻢ ﮐﮭﺎ ﺋﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎﺗﮭﺎ ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺗﮩﯿﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ ، ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ،ﺍﺱ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﭘﯿﮍھیﻧﺴﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ،ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮ ﮐﮯھی ﭼﮭﻮﮌﻭﮞ ﮔﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﺑﻮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﺝ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺮﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺱ ﻟﮯﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ، ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺣﺎﻓﻆﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻭﭦ ﮐﻮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮐﮭﻼﯾﺎ ، ﺩﻭﺍ ﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺴﺐ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﺩﯼ ، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﺴﺐ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﺣﺎﻓﻆ ﺻﺎﺣﺐ(بیٹے...

Why Israil' Childrens are Inteligents

اسرائیلی بچے کیوں عقل مند ہوتے ہیں۔؟؟    میڈی ڈیوڈ ایک اسرائیلی عورت تھی، اُس کے گھر خوشی آنے والی تھی۔ میڈی کو روز صبح ایک ادارے میں جانا پڑتا جہاں اسے 3 گھنٹے تک ریاضی کی مشقیں حل کرائی جاتیں تاکہ بچہ ذہین پیدا ہو، اس کے بعد وہ گھر آکر مچھلی، بادام، دودھ، کھجور، بیف، دالیں اور دیگر پھل وغیرہ کھاتی، دن میں کم از کم دو گھنٹے سکون حاصل کرنے کے لیے موسیقی سنتی۔ سرکاری طور پر اس کو وظیفہ دیا جارہا تھا تاکہ وہ ایک صحت مند یہودی کو پیدا کرسکے۔ اس کے شوہر کا رویہ بھی نہایت مثبت تھا، کیونکہ وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا بچہ پیدا ہو جو نوبیل پرائز حاصل کرے۔ 80 فیصد یہودی ہی ہمیشہ سے نوبیل پرائز حاصل کرتے آئے ہیں۔ 17 جنوری 1990ء کو آخرکار میڈی کے ہاں 8 پائونڈ کا سولیھن جوزف پیدا ہوا۔ اس کی ماں بھی بہت صحت مند تھی اور بچے کو بہترین ابتدائی غذائیں دے رہی تھی۔ تین سال کی عمر میں اسے نشانہ بازی، تیراندازی اور دوڑ کی مشقیں شروع کرا دی گئی تاکہ یکسوئی اور فیصلہ سازی کا عنصر پیدا ہو۔ سولیھن کو بہت اخلاق و تہذیب بھی سکھایا جاتا، اس کے سامنے کوئی اونچی آواز میں آپس میں بھی بات نہ کرتا۔ ای...