Skip to main content

Posts

Labours Day Reality - Sarim Noor

ایک مزدور اور اس کی بیوی پریشان بیٹھے تھے ۔ بیوی نے پوچھا تم کیوں پریشان ہو ؟  مزدور بولا : "میں جن صاحب کی کوٹھی پر مزدوری کر رہا ہوں ، کل ان کی چھٹی ہے۔ جس دن ان کی چھٹی ہوتی ہے ، وہ کوٹھی پر آ کر ایک ایک انچ کا جائزہ لیتے ہیں ، کوئی نقص نکل آے تو ٹھیکیدار ہم مزدوروں کے پیسے کاٹ لیتا ہے ۔ بس یہی پریشانی ہے ۔ ۔ ۔ اور تم بتاؤ تم کیوں پریشان ہو ؟" بیوی بولی : "جن ڈاکٹر صاحبہ کے گھر میں کام کرتی ہوں ، کل ان کی چھٹی ہے ۔ جس دن ان کی چھٹی ہو اس دن سر پر کھڑے ہو کر کام کرواتی ہیں ۔ کہتی ہیں کہ ایک ایک tile میں تمہاری شکل نظر آنی چاہیے ۔ پتہ نہیں کل کس بات کی چھٹی ہے !" ان کا چھوٹا بیٹا بولا :" میں بتاتا ہوں ، کل یومِ  مزدور ہے ۔ اس لئے سب بڑے صاحب چھٹی کریں گے!" مزدور اور اس کی بیوی نے حیرت سے بیٹے کو دیکھا اور پوچھا :"تمہیں کیسے پتہ ؟" بیٹا بولا : "آج استاد کہہ رہا تھا کہ صبح 7 بجے سروس سٹیشن پہنچ جانا ۔ 7 بجے سے دیر ہوئی تو پسلیاں توڑ دوں گا ۔ کل یومِ  مزدور ہے اور صاحب لوگوں کی چھٹی ہے ، گاڑیوں کا زیادہ رش ہو گا ۔ ۔ ۔ " #...

We are Responsible for this situation - Sarim Noor

"موجودہ حالات کے ذمہ دار کوئی اور نھیں ھم(عوام) خود ھیں۔" اس نے ھمارے ملک پاکستان کو لوٹا، اس نے مھنگائی کی، اس نے یہ کیا اس نے وہ کیا، اس نے ڈھانڈلی کی تو اس نے ملک کا امن خراب کیا، آجکل اس طرح کے جملے ھم(عوام) اپنے زبان سے کھتے رھتے ھیں اور سامنے ایک شخص ھوتا ھے جو بھت مزے سے سنتا ھے اور پھر وہ بھی کچھ اسی طرح کے جملے تھوڑا اور مرچ مصالحہ لگا کر کھتا ھے مگر افسوس کبھی ھم یہ نھیں سوچتے کہ ھم نے خود کیا کیا ؟ اورنہ ھی اپنے گریبان میں جھاک کر دیکھتے ھیں کہ اس نے تو جو کیا وہ کیا لیکن ھم نے کیا کیا ؟؟؟ • پاکستان کی موجودہ حالت(کرپشن، غربت، قتل عام، ناانصافی) کو دیکھتا ھوں تو وہ حدیث مبارک یاد آتی ھے جس کا مفھوم کچھ یوں ھے کہ "جیسی رعایاں(عوام) ھوگی ان پر ویسے ھی حکمران مسلط کیۓ جائینگے"(اللہ تعالی کمی بیشی معاف کرے) مگر اس حدیث مبارک کے بعد کچھ کھنا باقی نھیں رھتا سوائے اس کے کہ پھلے ھمیں اپنے گریبان میں جھاکنا چاھئے نہ کہ کسی اور کے گریبان میں، آج پاکستان کی جو بھی حالت ھے اس کا ذمہ دار نہ کوئی حکمران ھے، نہ تو کوئی محافظ اور نہ ھی کوئی منصف، اس کے ذم...

One Think for Changing System

ایک سوچ میں بس اسٹاپ پہ کھڑا اس شخص کو جو دیکھنے میں کافی ہینڈسم اور پڑھا لکھا نظر آرہا تھا کافی دیر سے گھوررہا تھا  کیونکہ وہ شخص اتنی ہی دیر سے بس اسٹاپ کھڑی اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ ایک اکیلی خاتون کو مسلسل گھورے جارہا تھا جو کچھ ہی فاصلہ پر کھڑیں تھیں، تھوڑی ہی دیر میں ای بس کو خاتون نے رکنے کا اشارہ کیا، بس اسٹاپ پر آکر رکی اور خاتون بس میں سوار ہوگئی، خاتون تو چلی گئی لیکن میں اس شخص کو گھورنا نہیں چھوڑا کیونکہ میری نیت اس اس بات کا احساس دلانا تھا کہ کسی کو کسی کا گھورنا کس قدربرا لگ سکتا ہے اور ہوا بھی یہی ٹھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص میری طرف آیا اور آتے ہی میرا گیریبان پکڑلیا، میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے کہا ارے بھائی کیا ہوا؟ چھوڑیں میرا گریبان، بلاوجہ میں گلے پڑرہے ہیں۔ اس نے کہا ابے تو مجھے اتنی دیر سے کیوں گھوررہا ہے؟ میں نے کہا، کیا ہوا بھائی آپکو دیکھنا گناہ ہے کیا؟ جب آپ بس اسٹاپ پہ کھڑی اس خاتون کو گھورہے تھے تو میں آپ کو گھورنے لگا اس میں کیا مضائقہ؟ جب آپ کو کسی پرائی عورت کو دیکھا اور گھورنا برا نہیں لگتا تو میرا آپ کو گھورنا برا کیوں لگا؟ شرم...

Last Azaan Hazrat Bilal R.A

حضرت بلال کی آخری اذان جسے ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺭﻭ ﺩﯾﺎ:ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﻭﺻﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ نے قسم کھائی کے میں آج کے بعد، میں اذان نہیں دوں گا "کیونکہ اگر نبی ﷺ کا دیدار نہیں تو اذان بھی نہیں"مدینے میں رہنا مشکل ہوا تو ملک شام چلے گئے. 6 مہینے مدینے لوٹ کر نہیں آئے تو اللہ کے نبی ﷺ خواب میں ملے اور فرمانے لگے.ﺍﮮ ﺑﻼﻝ.. ﯾﮧ ﮐﯿﺎ بے ﻭﻓﺎﺋﯽ؟ ہمارے شہر آنا ہی چھوڑ دیا؟ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ کو یوں لگا کے آپ ﷺ ابھی حیات ہیں اور بلا رہے ہیں تو آپ نے ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ کو تیار کیا، 7دن اور 7رات سوائے نماز اور حاجت کے آپ کہیں نہیں رکے، چل سو چل.. چل سو چل..جیسے ہی ﻣﺪﯾﻨﮧ پہنچے تو شور مچا دیا کہ یا رسول اللہ میں آ گیا یا رسول اللہ میں آ گیا.. آگے دیکھا تو قبر مبارک، آپ ﷺ تو تھے نہیں تو غش کھا کر قبر پر گر گئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ میں تو آ گیا آپ کہاں چلے گئے..؟؟ﻣﺪﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ آگ کی طرح ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﺆﺫﻥِ ﺭﺳﻮﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ واپس مدینہ تشریف لے آئے ﮨﯿﮟ.نماز کا وقت آ گیا اور سارے مدینے والوں کی خواہش کے آج حضرت بلال اذان دے لیکن سب کو پتا ہے کہ بلال قسم کھا چکا ہے کے اذان نہیں ...

Ghazi Mumtaz Qadri Namaz Janaza

غازی_لےگیابازی اوپر والی تصویر شھید ممتاز قادری کے جنازے کی ہے اور یه صرف ایک منظر ھے اتنے لوگ تھے که ھم سوچ نھیں سکتے کم و بیش 60لاکھ لوگ تھے اور نیچے والی تصویر ملعون سلمان تاثیر کے نمازجنازے کی اور سینٹر والی تصویر میں ایک جمله ھے جس کے پورے ھونے کا انتظار ھے. لاکھوں (کم و بیش 60لاکھ ) لوگ ممتاز قادری کے جنازے میں شرکت کرنے کے لیے باہر نکلے. اور جنازہ پڑھ کے ثواب اور جنت حاصل کرنے کے لیے اپنی دکانیں اور کاروبار بند کر دیے. کاش ان میں سے آدھے لوگ بھی ممتاز قادری کی رہ ائی کے لیے باہر نکل آتے تو آج وہ ہمارے ساتھ ہوتے اور حکومت کی جرآت نہ ہوتی کہ وہ انکو پھانسی کی سزا دے. لیکن اس قوم میں ظالم کے خلاف اٹھنے کے جراثیم ہی مر چکے ہیں. اور یہ. مردہ پرست قوم بن چکی ہے. بات صرف اس قوم کی نھیں بلکے ان علماء اور لیڈرز کی بھی ھے اگر ابھی کچھ کھ دوں تو لوگ ناراض ھونگے کے یه کیا کھ رھے ھو مگر اتنے بڑا عوامی اجتماع سوائے حصول ثواب کی دعا کے کچھ نہیں کر سکا ۔ایک مشترکہ اعلامیہ یا مذمتی قرار دار تک منظور نہیں کی جا سکی ۔سوائے مزار بنانے کے اعلان کے کوئی مشترکہ لائحہ عمل طے نہیں کیا ج...

Nizam Badla Jayega - Sarim Noor

وہ 31 مارچ کا دن تھا جب پانچویں کلاس کے نتیجے کا اعلان ہونے والا تھا — بچے سکول کے میدان میں رزلٹ کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے — حمد و ثناء کے بعد پرنسپل صاحب نے رزلٹ کا باقاعدہ آغاز کیا — اساتذہ کو یقین تھا کہ ھر سال کی طرح اس سال بھی اسکول میں پہلی پوزیشن محمد طاھر کی ہو گیمگر نتیجہ اس کے برعکس تھا —شہر جھنگ کے سب سے بڑے جاگیردار گھرانے کے چشم و چراغ پرویز عارف — جو کہ دو پیپرز میں بھی غیرحاضر تھا — نے پہلی پوزیشن حاصل کی تھی — نتیجے کا اعلان سن کر اساتذہ بھی خاصے حیران تھے مگر ” اندر کی بات ” سمجھ چکے تھے —گھر پہنچنے تک طاھر کی گال پر آنسوؤں کے ننھے ننھے مٹی ٹمٹما رہے تھے — ماں نے وجہ پوچھی تو خاصے غصے سے کہا،” اماں! میں یہ نظام نھیں چلنے دوں گا — “یہ وہی طاھر القادری ہے کہ جو عدل و انصاف کے قاتل اسی ” جاگیردارانہ نظام ” کا قلع قمع کرنے کے لئے 46 دن سے ھزاروں پاکستانیوں کے سنگ اسلام آباد کی سڑکوں پر بیٹھا ہے —نہ سمٹنے والی خواہشات جب اختیار اور طاقت کیساتھ یکجا ہونے لگتی ہیں تو خلق خدا پابندیوں کے شکنجے میں جکڑی جاتی ہیں — پاکستان کی تاریخ رہی ہے کہ حکمرانوں کی عیاشیوں کا ...

Haq ki Awaaz Kash koi Ek to Samjh Paye - Sarim Noor

Ye murda dil pakistani qoum jin ke liye kuch log apni jan ki fikar na karte howe jadojehd kar rhy hyn, ye murda dil qoum unka sath dyny ke bajaye unki is jadojehd ko ek mazak bana rhy hyn or trah trah ke behooda alfaz jadojehdh krne walon ke liye istimal kr rhy hyn or sirf yahi nhi balke ye murda dil log hamare Quaid ko b bht bura bhala keh rhy hyn, kis trah bardashaat krty hyn hum ye sab baten bas humy hi pta hy, or ye bhi hamare Quaid ki mehrbani hy jinho ne humy Sabar karna sikha diya or itna zyada sabar or bardashat karne wala bna diya hy ke humare sabr ko dekh kar pori duniya hairaan hy…. ab main ap ko aik aisi inqilabi ki dil ki bat btane jarha hon jo usne muj se khud share ki or bta isliye rha hon ke shayad ksi ko smj ajaye ke agr hum unka sath nhi dy skte to kam sy kam unko bura bhala bhi na kahen,,, agr hum me zulm ke khilaf awaz uthane ki himmat nhi hy to kam se kam jinho ne awaz uthai hy hum unki hosla afzai karen,,, agr hum unke sath ja kar unke bech beth nhi skte ...