Skip to main content

We are Responsible for this situation - Sarim Noor




"موجودہ حالات کے ذمہ دار کوئی اور نھیں ھم(عوام) خود ھیں۔"

اس نے ھمارے ملک پاکستان کو لوٹا، اس نے مھنگائی کی، اس نے یہ کیا اس نے وہ کیا، اس نے ڈھانڈلی کی تو اس نے ملک کا امن خراب کیا، آجکل اس طرح کے جملے ھم(عوام) اپنے زبان سے کھتے رھتے ھیں اور سامنے ایک شخص ھوتا ھے جو بھت مزے سے سنتا ھے اور پھر وہ بھی کچھ اسی طرح کے جملے تھوڑا اور مرچ مصالحہ لگا کر کھتا ھے مگر افسوس کبھی ھم یہ نھیں سوچتے کہ ھم نے خود کیا کیا ؟ اورنہ ھی اپنے گریبان میں جھاک کر دیکھتے ھیں کہ اس نے تو جو کیا وہ کیا لیکن ھم نے کیا کیا ؟؟؟

• پاکستان کی موجودہ حالت(کرپشن، غربت، قتل عام، ناانصافی) کو دیکھتا ھوں تو وہ حدیث مبارک یاد آتی ھے جس کا مفھوم کچھ یوں ھے کہ "جیسی رعایاں(عوام) ھوگی ان پر ویسے ھی حکمران مسلط کیۓ جائینگے"(اللہ تعالی کمی بیشی معاف کرے) مگر اس حدیث مبارک کے بعد کچھ کھنا باقی نھیں رھتا سوائے اس کے کہ پھلے ھمیں اپنے گریبان میں جھاکنا چاھئے نہ کہ کسی اور کے گریبان میں، آج پاکستان کی جو بھی حالت ھے اس کا ذمہ دار نہ کوئی حکمران ھے، نہ تو کوئی محافظ اور نہ ھی کوئی منصف، اس کے ذمہ دار صرف اور صرف ھم(پاکستانی عوام) خود ھیں اور ھم(عوام) میں سے ھر شخص نے یہ بات بھت بار سنی ھوگی کہ موجودہ حالات کہ ذمہ دار ھم(عوام) خود ھیں لیکن کوئی یہ نھیں سوچتا (بھت سے ھونگے جو سوچتے ھونگے لیکن میں اکثریت کی بات کر رھا ھوں) کے آخر ھم(عوام) ذمہ دار کیسےھیں ؟؟؟

اور ھم(عوام) میں سے بھت سارے لوگ ایسے بھی ھیں جو کھتے ھیں کہ لوٹ مار حکمران کرتے ھیں، رشوت خوری پولیس اور دوسرے ادارے کے لوگ کرتے ھیں، دھشتگردی فتنہ فساد لوگ، طالبان وغیرہ کرتے ھیں تو جب یہ سب کچھ ھم(عوام) نھیں کرتے تو ھم ذمہ دار کیسے ؟؟؟ 

میں ان سب کو بھت ھی آسان لفظوں میں بتانا چاھتا ھوں کہ ھم ذمہ دار کیسے اور کیوں ھیں،

•جب کوئی صدر، وزیراعظم یعنی ملک کا سربراہ بنتا ھے تو وہ خود نھیں بنتا بلکے اس کو صدارت پر ھم(عوام) خود بیٹھاتے ھیں

•جب کوئی اداراہ یا کوئی گورنمنٹ سرونٹ رشوت لیتا ھے تو رشوت دینے والا کوئی اور نھیں ھم(عوام) خود ھوتے ھیں

•جب کھیں دھشگردی ھوتی ھے تو وہ دھشتگرد کوئی اور نھیں ھوتا بلکے ھم(عوام) میں سے ھی کسی کا بھائی یا کسی کا بیٹا ھوتا ھے

ھمیں سوچنا چاھیئے کہ آخر ھم(عوام) سے کہاں کہاں غلطیاں ھوئی اور ھم(عوام) ان غلطیوں کو کیسے صحیح کرسکتے ھیں؟؟؟

میرے نزدیک اگر ھم(عوام) نے کسی غلط اور نااھل انسان کو صدرات پر بیٹھا دیا ھے تو ھمیں(عوام) اسکا بھی آخرت میں جواب دینا ھوگا تو بھتر ھے کہ ھم(عوام) اپنی غلطی کو جلد سے جلد درست کرلیں تا کہ آخرت میں جواب طلبی نہ ھو اور اگر کوئی پوچھتا ھے کہ کیسے کریں تو اسکا بھت آسان اور سادہ سا جواب ھے کہ جیسے بیٹھایا تھا اسی طرح ھٹا دیں اور پھر بھی اگر کوئی کھتا ھے کہ وہ تو غنڈا راج قائم کرچکا ھے اب ھم کچھ نھیں کرسکتے تو میں کھونگا کہ یہ ایک مایوسی سوچ ھے اور مایوسی کفر ھے، ھر ظالم دور میں کچھ ایسے لوگ ضرور ھوتے ھیں جو حق کی آواز بلند کرتے ھیں تو ھمیں(عوام کو) چاھیئے کہ انکے ساتھ ملکر اپنی کی ھوئی غلطی کو درست کریں اور صحیح اور اھل کو صدارت پر بیٹھائیں،

اور رھی بات رشوت کی تو جب ھم(عوام) کسی کو رشوت دینگے ھی نھیں تو وہ رشوت لے گا بھی نھی اور اسطرح ھم(عوام) بھی اس گناہ کبیرہ سے بچ جائینگے اور سامنے والے کو بھی بچا لینگے،

اگر ھم چاھتے ہیں کہ ہمارے بچے دھشگرد نہ بنیں اور دھشتگردی کا شکار نہ ھوں اور ملک میں امن و امان قائم رھے تو ھمیں چاھیے کہ ھم اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں اور ایسے استاد اور ٹیچرز کے پاس بھیجیں جو امن پسند ھوں اور اگر کوئی کھتا ھے کہ ایسے استاد ٹیچرز ملینگے کھاں اور کیسے پھچانینگے تو بابا سادہ سی بات ھے ھر دور فتنہ میں امن کے داعی ضرور ھوتے ہیں اور انکی پھچان ھوتی ھے کہ وہ ان فتنہ کے خلاف جدوجھد کرتے رہتے ہیں اور موجودہ دور میں اگر نظر دوراؤں تو مجھے ایسے بھت سے شخص نظر آتے ھیں جو امن کے داعی ھیں لیکن اگر بات ھو دور حاضر میں سب سے بڑے امن کے داعی کی تومیری نظر میں وہ شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر محمد طاھرالقادری صاحب ھیں جنھوں نے  موجودہ دور کا فتنہ "دھشتگردی" کے خلاف پوری دنیا میں جدوجہد کی اور 600صفحات پر مشتمل دھشتگردی کے خلاف فتویٰ دیا اور پوری دنیا کو اورخصوصی عالم مغرب کو یہ بات بتائی اور تسلیم کراوائی کہ "دین اسلام کا دھشتگردی سے کوئی تعلق نھی، دین اسلام میں دھشتگردی کی اجازت ھی نھیں،  دین اسلام پیار، محبت اور امن پسند والا مذھب ھے" تو ھمیں چاھئیے کہ ھم(عوام) اپنے بچوں کی تربیت ایسے ٹیچرز کی تعلیمات سے کریں جو امن کے داعی ھوں،

اس طرح ھمارے(پاکستان کے) بچے نہ تو دھشتگرد بنینگے اور نہ ھی دھشتگردی کا شکار بنینگے اور ملک میں بھی امن و امان قائم رھے گا اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ھوگا، "انشاءاللہ"



Popular posts from this blog

General Knowledge - Questions Answers

  📚* جنرل نالج بہترین سوالات و جوابات سوال : وہ جھیل کس ملک میں ہے جس کی سطح کا پانی شربت کی طرح میٹھاہے مگر سطح کے تین فٹ نیچے کا پانی کڑواہے؟ جواب: جرمنی میں۔ سوال: وہ کون سا پرندہ ہے جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتا ہے ؟ جواب: چمگاڈر۔ سوال: وہ کون سا ملک ہے جہاں چڑیا نہیں پائی جاتی ہے؟ جواب: چین۔ سوال: وہ کونسا جانور ہے جس سے شیر بھی ڈرتا ہے ؟ جواب: سیمیہ (شکونڑ)۔ سوال: وہ کونسے جانور ہے جو مختلف رنگوں میں فرق نہیں کر سکتے ؟ جواب: گدھ اور بندر۔ سوال: اس مکڑی کا نام بتائیں جو ۳۰ سال تک زندہ رہ سکتی ہے؟ جواب: ٹرنٹولا نامی مکڑی۔ سوال: انسان کے بعد دنیا کی ذہین ترین مخلوق کونسی ہے ؟ جواب: مکڑی ، ڈولفن اور چمنیزی بندر۔ سوال: بندر کے کتنے دماغ ہوتے ہیں ؟ جواب: دو۔ سوال: وہ کونسا ملک ہے جہاں کوئی دریا نہیں ہے ؟ جواب: کویت۔ سوال: چین کی سرحدیں کتنے ملکوں سے ملتی ہیں ؟ جواب: ۱۳ ملکوں سے۔ سوال: کے ٹو کا دوسرا نام کیا ہے ؟ Mount Godwin Austen :جواب سوال: پرندوں کا درجہ حرارت کتنا ہوتا ہے؟ جواب: ۱۱۲ درجہ فارن ہائیٹ۔ سوال: اس روشنی کا نام بتائیں جو ایک شہد کی مکھی تو دیکھ سکتی ہے مگر انسان ن...

Who has killed peoples most of in the world's history?

دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ھیں ؟ ھٹلر آپ جانتے ھیں وہ کون تھا؟ وہ عیسائی تھا ، لیکن میڈیا نی کبھی اسکو عیسائی دھشت گرد نہیں کہا  جوزف اسٹالن اس نے بیس ملین (ایک ملین -دس لاکھ کے برابر) انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ، جسمیں سے ساڑھے چودہ ملین بھوک سے مرے . کیا وہ مسلم تھا؟ ماوزے تنگ اس نے چودہ سے بیس ملین انسانوں کو مارا کیا وہ مسلم تھا؟ مسولینی چار لاکھ انسانوں کا قاتل ھے کیا وہ مسلم تھا؟ اشوکا اس نے کلنگا کی جنگ میں ایک لاکھ انسانوں کو مارا کیا وہ مسلم تھا؟ جارج بش کی تجارتی پابندیوں کے نتیجے میں صرف عراق میں پانچ لاکھ بچے مرے انکو میڈیا کبھی دہشت گرد نھیں کھتا آجکل جھاد کا لفظ سن کر غیر مسلم تشویش میں مبتلا ھوجاتے ھیں  جبکہ جہاد کا مطلب معصوموں کو مارنا نھیں، بلکہ برائی کے خلاف اور انصاف کے حصول کی کوشش کا نام جھاد ھے چند اور حقائق پہلی جنگ عظیم میں 17 ملین لوگ مرے اور جنگ کا  سبب  غیر مسلم تھے دوسری جنگ عظیم میں 50-55 ملین لوگ مارے گئے اور  سبب؟ ...

Sarim Noor Honored with "Nishan-e-Wafa" Award

Sarim Noor Honored with "Nishan-e-Wafa" Award by Minhaj Youth League Karachi February 28, 2017 - Karachi, Pakistan In a remarkable event held in Karachi, the Minhaj Youth League Karachi (MYL Karachi) proudly presented the prestigious "Nishan-e-Wafa" award to its highly active and dedicated divisional member, Sarim Noor. This award was conferred upon him in recognition of his tireless efforts and unwavering commitment to the cause of the Mustafavi Revolution. The ceremony took place in a grand gathering, where esteemed dignitaries, MYL members, and supporters of the mission came together to celebrate the contributions of individuals who have played a significant role in spreading the message of peace, unity, and justice. The award was presented by Mr. Qazi Zahid Hussain, Mr. Rana Tajammul, and Mr. Mirza Junaid Ali , along with other respected senior members, including Bashir Khan Marwat, Shahid Malik, Faheem Khan, and Naeem Ansari . Their presence further highlighted...