One Think for Changing System



ایک سوچ


میں بس اسٹاپ پہ کھڑا اس شخص کو جو دیکھنے میں کافی ہینڈسم اور پڑھا لکھا نظر آرہا تھا کافی دیر سے گھوررہا تھا
 کیونکہ وہ شخص اتنی ہی دیر سے بس اسٹاپ کھڑی اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ ایک اکیلی خاتون کو مسلسل گھورے جارہا تھا جو کچھ ہی فاصلہ پر کھڑیں تھیں، تھوڑی ہی دیر میں ای بس کو خاتون نے رکنے کا اشارہ کیا، بس اسٹاپ پر آکر رکی اور خاتون بس میں سوار ہوگئی، خاتون تو چلی گئی لیکن میں اس شخص کو گھورنا نہیں چھوڑا کیونکہ میری نیت اس اس بات کا احساس دلانا تھا کہ کسی کو کسی کا گھورنا کس قدربرا لگ سکتا ہے اور ہوا بھی یہی ٹھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص میری طرف آیا اور آتے ہی میرا گیریبان پکڑلیا، میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے کہا ارے بھائی کیا ہوا؟ چھوڑیں میرا گریبان، بلاوجہ میں گلے پڑرہے ہیں۔ اس نے کہا ابے تو مجھے اتنی دیر سے کیوں گھوررہا ہے؟ میں نے کہا، کیا ہوا بھائی آپکو دیکھنا گناہ ہے کیا؟ جب آپ بس اسٹاپ پہ کھڑی اس خاتون کو گھورہے تھے تو میں آپ کو گھورنے لگا اس میں کیا مضائقہ؟ جب آپ کو کسی پرائی عورت کو دیکھا اور گھورنا برا نہیں لگتا تو میرا آپ کو گھورنا برا کیوں لگا؟
شرمندگی کے احساس کے ساتھ سر کو جھکاتے ہوئے اس شخص نے میرا گریبان چھوڑدیا اور کہنے لگا معذرت برادار میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں مجھے کبھی اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا کہ جب مجھے کسی کا گھورنا اتنا برا لگ سکتا ہے تو ایک اکیلی اور بے بس خاتون کو کتنا برا لگ سکتا ہوگا۔ آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے احساس دلایا۔