Skip to main content

Posts

Why Mufti Muneeb ur Rehman Silent On Saniha e Model Town Issue?

  کاش:- مفتی منیب الرحمن صاحب محترم سید حسین الدین شاہ صاحب اس طرح کی ایک پریس کانفرنس سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور ان کے لواحقین کے لیے بھی کرتے کیونکہ سنا ہے ان کے لیڈر نے بھی تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے جنگ لڑی تھی سنا ہے ان پر بھی حکومت کے گماشتوں نے بیدردی سے گولیاں برسائی تھیں سنا ہے وہ بھی کلمہ گو مسلمان تھے سنا ہے وہ بھی درودی تھے سنا ہے وہ بھی یارسول اللہ ﷺ کا نعرہ لگاتے تھے سنا ہے تب بھی علمائے کرام کو ہتھکڑیاں پہنا کر گرفتار کیا گیا تھا سنا ہے تب بھی سفید داڑھیوں کو انہیں کے خون سے رنگین کیا گیا تھا سنا ہے تب بھی چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال ہوا تھا سنا ہے تب تو اَغثنی یارسول اللہ ﷺ پکارتی قوم کی باپردہ بیٹیوں کے منہ اور پیٹوں میں گولیاں بھی اتاری گئی تھیں اور ان سمیت پیٹ میں موجود ننھی جانوں کا خون بھی کیا گیا تھا. تب غیرتِ مسلک ودین اور محراب و منبر کہاں تھی لیکن کیا کریں مفتی صاحب کی شاید یہ مجبوری ہوکہ تب جانوں کا نزرانہ پیش کرنے والے شہداء و لواحقین متحدہ تنظیمات المدارس کا حصہ نہ تھے اور اس وجہ سے ان کا اہلسنت اور مسلمان ہونا مشکوک تھا یا پھر اور کئی مجبوریاں ...

Mere Nabi S.A.W.W Kitne Shafeeq Hain.

یہ تحریر نہ پڑھی تو سمجھو کچھ بھی نہ پڑھا ایک بار جب جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آے تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ جبرایل کچھ پریشان ہے آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہو ں جبرائیل نے عرض کی اے محبوب کل جہاں آج میں اللہ پاک کے حکم سے جہنم کا نظارہ کرکہ آیا ہوں اسکو دیکھنے سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوے ہیں نبی کریم نے فرمایا جبرائیل مجھے بھی جہنم کے حالات بتاو جبرائیل نے عرض کی جہنم کے کل سات درجے ہیں ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈلیں گے اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے چوتھے درجے میں اللہ پاک آتش پرست لوگوں کو ڈالیں گے تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے دوسرے درجے میں اللہ تعالی عسائیوں کو ڈالیں گئ یہ کہہ کر جبرائیل علیہ سلام خاموش ہوگئے تو نبی کریم نے پوچھا جبرائیل آپ خاموش کیوں ہوگئے مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا جبرائیل علیہ سلام نے عرض کیا یا اللہ کے رسول پہلے درجے میں...

Jab Nahaana Kuffur Samjha Jata Tha

یورپ میں نہانا کفر سمجھا جاتا تھا،یورپ کے لوگوں سے سخت بدبو آتی تھی! روس کے بادشاہ قیصر کی جانب سے فرانس کے بادشاہ لوئیس چہاردہم کے پاس بھیجے گئے نمائندے نے کہا کہ ” فرانس کے بادشاہ کی بدبو کسی بھی درندے کی بدبو سے زیادہ متعفن ہے”، اس کی ایک لونڈی تھی جس کا نام” مونٹیاسبام” تھا جو بادشاہ کی بدبو سے بچنے کے لیے اپنے اوپر خوشبو ڈالتی تھی۔ دوسرطرف خود روسی بھی صفائی پسند نہیں تھے، مشہور سیاح ابن فضلان نے لکھا ہے کہ ” روس کا بادشاہ قیصر پیشاب آنے پر مہمانوں کے سامنے ہی شاہی محل کی دیوار پر پیشاب کرتا ہے ، چھو ٹے اور بڑے پیشاب دونوں کے بعد کوئی استنجا نہیں کرتا، ایسی گندی مخلوق میں نہیں دیکھی”۔ اندلس میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والی ملکہ” ایزا بیلا” ساری بیلا” ساری زندگی میں صرف دو بار نہائی،اس نے مسلمانوں کے بنائے ہوئے تمام حماموں کو گرادیا۔اسپین کے بادشاہ “فلیپ دوم” نے اپنے ملک میں نہانے پر مکمل پابندی لگا رکھی تھی، اس کی بیٹی ایزا بیل دوئم نے قسم کھائی تھی کہ شہروں کا محاصرہ ختم ہونے تک داخلی لباس بھی تبدیل نہیں کرے گی اور محاصرہ ختم ہونے میں تین سال لگے،اسی سبب سے وہ مرگئی...

Beautiful Story of Hazrat Hizar (A.S) and Sultan Mahmood Ghaznavi

سلطان محمود غزنوی کا دربار لگا ھوا تھا. دربار  میں ہزاروں افراد شریک تھے جن میں اولیاء قطب اور ابدال بھی تھے۔ سلطان محمود نے سب کو مخاطب کر کے کہا کوئی شخص مجھے حضرت خضر علیہ السلام کی زیارت کرا سکتا ہے.. سب خاموش رہے دربار میں بیٹھا اک غریب دیہاتی کھڑا ہوا اور کہا میں زیارت کرا سکتا ہوں .سلطان نے شرائط پوچھی تو عرض کرنے لگا 6 ماہ دریا کے کنارے چلہ کاٹنا ہو گا لیکن میں اک غریب آدمی ہوں میرے گھر کا خرچا آپ کو اٹھانا ہو گا . سلطان نے شرط منظور کر لی  اس شخص کو چلہ کے لیے بھج دیا گیا اور گھر کا خرچہ بادشاہ کے ذمے ہو گیا. 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان نے اس شخص کو دربار میں حاضر کیا اور پوچھا تو دیہاتی کہنے لگا حضور کچھ وظائف الٹے ہو گئے ہیں لہٰذا 6 ماہ مزید  لگیں گے. مزید 6 ماہ گزرنے کے بعد سلطان محمود کے دربار میں اس شخص کو دوبارہ پیش کیا گیا تو بادشاہ نے پوچھا میرے کام کا کیا ہوا.... ؟ یہ بات سن کے دیہاتی کہنے لگا بادشاہ سلامت کہاں میں گنہگار اور کہاں  حضرت خضر علیہ السلام میں نے آپ سے جھوٹ بولا .... میرے گھر کا خرچا پورا نہیں ہو رہا تھا بچے بھوک سے مر رہے تھے ا...

Letter of Kulsoom Nawaz

:عالم ارواع سے بیگم کلثوم کا میاں نواز شریف کے نام پہلا خط باؤ جی، میں ِخیریت سے پہنچ آئی ہوں ۔اور آپ کی جدائی شدت سے محسوس ہو رہی ہے۔روانگی پر پٹواریوں کا خلوص بہت یاد آتا ہے کہ کس طرح انہوں نے میری تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملا دیے ، اور میں خود اپنی ان تعریفوں سے ناواقف رہی ۔میں آپ کی جان بخشی کے لیئے مشرف کے ِخلاف نکلی تھی، اور مجھے مادر جمہوریت بنا دیا ۔ بہرحال مجھے آچھا لگا۔ یہاں آتے ساتھ ہی فرشتوں نے منی ٹریل مانگنی شروع کر دی۔ میں نے کہا کہ منی ٹریل بابو جی کے پاس ہے اور وہ میرے پیچھے آ رہے ہیں ۔ بڑی مشکل سے مہلت ملی ہے۔ یہاں آپ کے وکلاء کی کمی بہت محسوس ہوئی ہے کہ کس طرح سیدھے سادے کرپشن کے کیس کو الجھا دیا تھا۔ شاید یہاں بھی میری مدد ہو جاتی ۔ یہاں کاُفی لوگوں سے میری ملاقاتیں ہوئی ہیں، جن میں آپ کے والد میاں شریف، جرنل ضیاء الحق ، بےنظیر بھٹو، ماڈل ٹاؤن کے شہداء اور وہ تمام لوگ بھی مل رہے ہیں، جنہیں آپ نے پوری زندگی گمراہ کیا ۔ فرشتے کہہ رہے تھے کہ نوازشریف نے پاکستانی قوم کو شیطان سے زیادہ گمراہ کیا ہے ۔ بہرحال ، تمام متاثرین آپ پر لعنت بھیج رہے ہیں ۔ خصوصی طور ...

Aik Aalim-e-Deen Imamat ki Nokri Se Bezaar Kiu?

ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ 44 ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﻓﺮ ﺍ ﺋﺾ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﮮ ﺭﻫﮯ ﺗﮭﮯ ، ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﯾﮧ ﻓﺮﺍئض 27 ﺳﺎﻝ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﺭﻫﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﯿﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺟﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﮰ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺳﻮﻧﭗ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺭﮦ ﮐﺮ ﺩﺍﻋﯽ ﺍﺟﻞ ﮨﻮﮰ ، ﺍﺏ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﻭﮨﯽ ﺻﻮﺭﺗﺤﺎﻝ ﮬﮯ ﻣﮕﺮ ﺣﺎﻓﻆ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﺴﺠﺪ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﮐﻮﺳﻮﮞ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺻﺤﺖ ﮐﮯ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﻟﮕﯽ ، ﻣﮕﺮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻓﻆ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻼﺕ ﺳﮯﺩﻭﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﭘﺮ ﻏﻢ ﮐﮭﺎ ﺋﮯ ﺟﺎ ﺭﮨﺎﺗﮭﺎ ، ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺗﮩﯿﮧ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﮐﮧ ﺁﺝ ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺍ ، ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﮐﻮ ،ﺍﺱ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﭘﯿﮍھیﻧﺴﻞ ﮐﻮ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ،ﻣﺴﺠﺪ ﮐﯽ ﺫﻣﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﭘﺮ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮ ﮐﮯھی ﭼﮭﻮﮌﻭﮞ ﮔﺎ ، ﺩﻭﺳﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺳﮯ ﺑﯿﭩﺎ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺍﺑﻮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺁﺝ ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻓﺮﻭﭦ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺱ ﻟﮯﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﺁﺗﺎ ﮬﮯ ، ﮔﮭﺮ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺣﺎﻓﻆﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻓﺮﻭﭦ ﮐﻮ ﺩﮬﻮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﻮ ﮐﮭﻼﯾﺎ ، ﺩﻭﺍ ﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﺣﺴﺐ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﺩﯼ ، ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺣﺴﺐ ﺭﻭﭨﯿﻦ ﺣﺎﻓﻆ ﺻﺎﺣﺐ(بیٹے) ﮐﻮ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺩﯼ، ﻋﺼﺮ ﺳﮯ ﺭﺍﺕ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﻋک ﺗﮏ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺟ...

Organized Biggest Youth Rally on 14 August

اللہ و اسکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ رب تبارک و تعالی نے مجھے بھی خدمت دین کے لیے چنا اور منہاج القرآن کا ایک ادنی سا سپاہی بنایا اور سب سے بڑھ کر اس بات کا جتنا شکر ادا کروں کم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے منہاج یوتھ لیگ کراچی کی ایک نوکری ایک ذمہ دارای کے لئے بھی منتخب کیا,  میں زندگی  بھر بھی اگر رات دن مسلسل خدمت کرتا رہوں تو بھی اسکا حق ادا نہیں کرسکتا مگر رب تبارک و تعالٰی کی رحمت و اسکے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی نظر کرم کے طفیل ابھی ذمہ داری ملے چند ماہ ہی ہوئے تھے کہ منہاج یوتھ لیگ کی کراچی میں موجود 44صوبائی حلقاجات میں سے 30 صوبائی حلقہ جات میں تنظیمات بن گئی, ابھی تنظیمات بنانے کی مصروفیات میں ہی لگے تھے کہ پے در پے ایونٹس بھی آنا شروع ہوگئے جس میں سے بڑے ایونٹس میں سب سے پہلے مجدد رواں صدی قائد انقلاب  حضور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری صاحب کی سالگرہ کا موقع آیا تو کراچی میں یوتھ لیگ کے تحت ایک مرکزی اور 6ڈسٹرکٹ میں شاندار پروگرام کا انعقاد کیا گیا, مرکزی یوتھ پارلیمنٹ لاہور میں کراچی سے پہلی بار 6 ذمہ داران ن...