Skip to main content

Posts

Story of a Man Mr. Abu Nasar Al Siyaad and Aalim e Deen Ahmad bin Miskeen

ابو نصر الصیاد نامی ایک شخص، اپنی بیوی اور ایک بچے کے ساتھ غربت و افلاس کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ ایک دن وہ اپنی بیوی اور بچے کو بھوک سے نڈھال اور بلکتا روتا گھر میں چھوڑ کر خود غموں سے چور کہیں جا رہا تھا کہ راہ چلتے اس کا سامنا ایک عالم دین احمد بن مسکین سے ہوا، جسے دیکھتے ہی ابو نصر نے کہا؛ اے شیخ میں دکھوں کا مارا ہوں اور غموں سے تھک گیا ہوں۔ شیخ نے کہا میرے پیچھے چلے آؤ، ہم دونوں سمندر پر چلتے ہیں۔ سمندر پر پہنچ کر شیخ صاحب نے اُسے دو رکعت نفل نماز پڑھنے کو کہا، نماز پڑھ چکا تو اُسے ایک جال دیتے ہوئے کہا اسے بسم اللہ پڑھ کر سمندر میں پھینکو۔ جال میں پہلی بار ہی ایک بڑی ساری عظیم الشان مچھلی پھنس کر باہر آ گئی۔ شیخ صاحب نے ابو نصر سے کہا، اس مچھلی کو جا کر فروخت کرو اور حاصل ہونے والے پیسوں سے اپنے اہل خانہ کیلئے کچھ کھانے پینے کا سامان خرید لینا۔ ابو نصر نے شہر جا کر مچھلی فروخت کی، حاصل ہونے والے پیسوں سے ایک قیمے والا اور ایک میٹھا پراٹھا خریدا اور سیدھا شیخ احمد بن مسکین کے پاس گیا اور اسے کہا کہ حضرت ان پراٹھوں میں سے کچھ لینا قبول کیجئے۔ شیخ صاحب نے کہا اگر تم نے ا...

Quaid Day Celebration 2022 | Karachi | Dr Tahir-Ul-Qadri

Participation in the Quaid-e-Day program under the Pakistan Awami Tehreek District West. The program was a very good and successful program. Congratulations to Mr. Wasim Ansari and Dear Loving Brother Mr. Anwar Memon and the entire team of PAT West district from the bottom of my heart. And Thanks for giving me time for the invitation of the Grand Leader Day Program held on February 27th under Minhaj Youth League Karachi at Royal Club, Gulshan e Iqbal, Karachi. #QuaidDay2022 #TahirulQadri #SarimNoor #birthdaycelebration #OrangeTown #MinhajYouthLeague پاکستان عوامی تحریک ضلع ویسٹ کے تحت ہونے والے قائد ڈے پروگرام میں منہاج یوتھ لیگ کراچی کی نمائندگی کرتے ہوئے محترم احسن نعیم اور صارم نور کی شرکت۔  محترم صارم نور کا اظہار خیال اور منہاج یوتھ لیگ کراچی کے تحت 27فروری کو ہونے والے عظیم الشان قائد ڈے پروگرام کی دعوت اور اختتام پر کامیاب پروگرام کے انعقاد پر محترم وسیم انصاری اور محترم انور میمن اور PATضلع ویسٹ کی پوری ٹیم کو دل کی اتہا گہرا...

Suchi Muhabbat Ka Sila | Urdu Story

ایک شخص اکثر ایک بوڑھی عورت سے انار خریدا کرتا تھا، وزن و پیمائش اور قیمت کی ادا ئیگی سے فارغ ہوکر وہ انار کو چاک کرتا اور ایک دانہ اپنے منھ میں ڈال کے شکایت کرتا کہ یہ تو کھٹے ہیں ....اور یہ کہہ کے وہ انار اس بوڑھی عورت کے حوالے کر دیتا..... وہ بزرگ عورت ایک دانہ چکھ کے کہتی "یہ تو با لکل میٹھا ہے" مگر تب تک وہ خریدار اپنا تھیلہ لیکے وہا ں سے جا چکا ہوتا ہے....اس شخص کی زوجہ بھی ہر بار اس کے ساتھ ہی ہوتی تھی .... اس کی بیوی نے پوچھا "جب اس کے انار ہمیشہ میٹھے ہی نکلتے ہیں تو یہ روز کا ڈرامہ کیسا.." اس شخص نے مسکرا کے جواب دیا " وہ بوڑھی ماں میٹھے انار ہی بیچتی ہیں مگر غربت کی وجہ سے وہ خود اس کو کھانے سے محروم ہیں ...اس ترکیب سے میں ان کو ایک انار بلا کسی قیمت کے کھلانے میں کامیاب ہو جا تا ہوں ...بس اتنی سی بات ہے" اس بوڑھی عورت کے سامنے ایک سبزی فروش عورت روزانہ یہ تماشہ دیکھتی تھی ...... سو وہ ایک دن پوچھ بیٹھی "یہ آدمی روزانہ تمہارے انار میں نقص نکال دیتا ہے اور تم ہو کہ ہمیشہ ایک زائد انار وزن کرتی ہو...کیا وجہ ہے؟؟؟" یہ سن کے بوڑھی عورت کے ...

Beti Rehmat Hai |

ایک حاملہ خاتون نے اپنے شوہر سے پوچھا ! ہم اگلے دو مہینوں میں ماں باپ بننے والے ہیں،  بولی اگر بیٹا ہوا، تو کیا منصوبہ ہوگا؟  شوہر نے جواب دیا ! میں اس کو تمام روزمرہ زندگی کی روایات سکھاؤں گا، کھیل، ریاضی، لوگوں کی عزت اور وغیرہ وغیرہ۔ خاتون نے پھر پوچھا:- اگر بیٹی ہوئی تو؟  شوہر نے جواب دیا:- میں اسے کچھ نہیں سکھاؤں گا، بلکہ میں اس سے خود سیکھوں گا۔  میں غیرمشروط محبت سیکھوں گا، میری بیٹی یہ کوشش کرے گی کہ وہ میری پرورش اپنے ایک مخصوص زاویہ نگاہ سے کرے۔ بالوں کی کنگھی کرنے سے لیکر ڈریسنگ تک،  ابتداءِ گفتگو سے لیکر انتہاءِ گفتگو تک،  نیز کہ وہ میرے ہر کام کو اپنی زاویہ نظر سے تربیت کرے گی۔  وہ میرے لیے دوسروں سے لڑے گی، مباحثہ کرے گی، اس کی خوشی اور غم میری طبیعت پہ منحصر ہوں گے۔  خاتون نے پھر پوچھا !  کیا بیٹا یہ سب کچھ نہیں سکھائے گا آپ کو؟  شوہر نے جواب دیا !  بیٹے میں یہ ساری خصوصیات ڈالی جاتی ہے، لیکن بیٹی ان خصوصیات کیساتھ پیدا ہوتی ہے۔  خاتون نے پوچھا ! لیکن بیٹی تو ہمارے ...

Qabar Ka Haal ‎- ‏قبر ‏کا ‏عجیب ‏واقعہ

*میں ﻧﮯ ﮔﻮﺭﮐﻦ ﺑﺎﺑﺎ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ؟* *ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ آﺣﻮﺍﻝ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ۔۔۔* *ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﮯ :* *اب ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯽ ﻗﺒﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ہوئے ﺑﮩﺖ ﻣﺸﻘﺖ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﺗﯽ ہے...*  *ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﻣﭩﯽ ﺳﺨﺖ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ، ﺗﻮ ﮐﮩﯿﮟ ﭘﺘﮭﺮ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔۔۔* ۔۔۔ *ﺁج کل ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﯽ کھدﺍﺋﯽ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺳﺎﻧﭗ ﺑﭽﮭﻮ ﮐﺎ ﻧﮑﻞ ﺁﻧﺎ ﻋﺎﻡ ﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﻮ ﮔﺊ ﮨﮯ ۔۔* ۔۔۔ *ﮐﺌﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﯽ کھدﺍﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﯽ ﻭﺣﺸﺖ ﺍﻭﺭ گھبرﺍہٹ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔۔۔* *ﭼﻮﻧﮑﮧ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ کھدﺍﺋﯽ ﻧﻨﮕﮯ ﭘﺎﻭﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ۔۔۔۔* ۔۔۔ *ﮐﺌﯽ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﮐﯽ کھدﺍﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺮ ﺟﻠﻨﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ۔۔* *ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ زﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﺗﯿﺎﺭﯼ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻗﺒﺮ ﺳﮯ ﺩﮬﻮﺍﮟ ﺑﮭﯽ ﻧﮑﻠﺘﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﮒ ﮐﮯ ﺷﻌﻠﮯ ﺑﮭﯽ ۔۔۔* ۔۔۔ *ﮐﺊ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﺪﻓﯿﻦ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﭘﺮ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺁﮒ ﺟﻠﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻗﺒﺮﻭﮞ ﺳﮯ ﭼﯿﺦ ﻭ ﭘﮑﺎﺭ ﺑﮭﯽ ﺳﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﻮﮞ ۔۔۔* ۔۔۔ *ﯾﮧ ﺑﺎﺗﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎ ﺟﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﺼﻮﺭ ﻣﯿﮟ، ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺒﺮ ﮐﯽ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﮔﻢ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ، ﮐﮧ ﻧﺎﺟﺎﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻗﺒﺮ میں ﺳﮯ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻧﮑﻞ ﮐﺮ، ﮔﻮﺭﮐﻦ ﮐﺎ ﻭﺟﻮﺩ ﺭﻭﺷﻦ ﮐﺮﮮ ﮔﯽ، ﯾﺎ ﮔﻮﺭﮐﻦ ﮐﮯ ﭘﯿﺮ ﺟﻼ ﮈﺍﻟﮯ ﮔﯽ ؟؟؟* ۔۔۔ *ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﯿﺎ ﺧﺒ...

Ek ‎Mulaqat ‎Mehboob ‎ke ‎Sath

اک دن انجانے میں محبت کے ساتھ ملاقات جو ہوئی سرد ہوا اور ساتھ میں ہلکی ہلکی برسات جو ہوئی سچ پوچھو تو موسم بہت اچھا تھا ادب سے میں نے جو پیش خدمت سلام کیا نہایت مؤدبانہ محبت نے مجھ سے کلام کیا پہلے پہل تو بہت ہی بھولی لگی مجھے تتلیوں کے جھرمٹ کی ہمجولی لگی مجھے پوچھا جو میں نے کیوں ستاتی ہو دیوانے کو کہنے لگی لگتا ہے تمہاری مجھ سے وقفیت نہیں ہے تبھی تو تمہارے دل میں میری قدریت نہیں ہے میں نے کہا کہنے کو تو اچھی لگتی ہو تم ہنس کر کہنے لگی تمھیں دوستی کرنی ہے  میں بھی مسکرا دیا یہ کہہ کر مسکراؤں گا سب کچھ سہہ کر بھوکلا کر کہنے لگی بہت ہی اکڑُو ہو تم باریک بینی سے واقف اور نہایت پکڑُو ہو تم میں ہنس دیا کہ تم مجھے سمجھ نہ پاؤ گی سب کچھ کہہ کر بھی کچھ کہہ نہ پاؤ گی کہنے لگی وقت آنے پر جتاؤں گی کیا چیز ہوں میں تمہیں بتاؤں گی میں نے کہا بنیاد بہت پکی ہے میری دیکھوں گا کہاں تک چلتی ہے تیری کہنے لگی کسی سہانی محفل میں تمہیں ملواؤں گی چوری چوری چپکے چپکے تمہیں ہرسو ستاؤں گی میں نے کہا دل ہے کوئی یتیم خانہ نہیں یہاں مرے سوا کسی اور کا آنا جانا نہیں کہنے لگی واہ کیا ناز ہے بات کرنے کا کیا اندا...
سوال نمبر 1 داستان نگاری کیا ہے نیز اس کی خصوصات تحریر کیجۓ؟   داستان نگاری داسان نگاری سن 1800 میں کلکتہ شہر میں فورٹ ولیم کالج کا قیام اردو ادب میں داستان گوئی انگاری کے لحاظ سے سنگ میل کا درجہ رکھتا ہے کہ اس درسگاہ سے ایک منظم اور بامقصد تحریک نے جنم لیا اور باظابطہ طور پر داستان نگاری کا آغاز ہوا۔ جو تقریبا تیس چالیس سال تک جاری رہا- انسویں صدی اک آغاز داستان کے عروج کا زمانہ تھا- اس دور میں اردو ادب میں غیرمعمولی اور غیرفانی تصانیف کا اضافہ ہوا۔ ادبی نقطہ نظرے سے دیکھا جائے تو داستان فن کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتی- یہ حقیقی اور فرضی دونوں قصوں پر مشتمل ہوتی ہے   داستان نگاری کی خصوصیات و عناصر داستان نگاری کی خصوصیات و عناصر مندرجہ ذیل ہیں مافوق الفطرت واقعات یہ داستان نگاری کا ایک اہم   مصر ہیں، داستان میں ایسے واقعات تحریر کیے جائی جو انسانی عقل و شعور اور اسان طاقت و اختیار سے باہر ہوں، انسان اپنے افعال و کردار کا اظہار کرسکتا ہو لیکن داستانوں میں انسان کو اسکا اہل دکھایا گیا ہو   عشق و محبت پرمبنی داستانیں عشق اور محبت پرمبنی ہوں،...