Skip to main content

Koi Kisi ka Hamesha Saath Nahi Deta.




"مجھ سے محبت کے دعویدار ہی ایک دن مجھے بھی زمین بوس کر آئینگے"


پچھلی شام کی بات ہے کہ میرے پاس ایک کال آئی اور مجھے اطلاع دی گئی کہ میرے پیارے کزن، بچپن کے دوست کو اللہ تعالی نے ایک بہت معصوم سا بہت پیارا سا بیٹا عطا کیا ہے لیکن ساتھ ہی بری خبر یہ دی کہ اس معصوم بچے نے اس دنیا میں آنکھ ہی نہیں کھولی۔ میں یہ خبر سنتے ہی امی جان کو لیکر کزن کے گھر پہنچا تو دیکھا کہ اس معصوم سے بچے کو کفن میں لپیٹ رکھا ہے، کفن کھول کر جب اس کا چہرہ دیکھا تو بہت ہی پیارا اور خوبصورت بچہ تھا لیکن اللہ کو جو منظور تھا اس میں ہم کر بھی کیا کرستکے تھے۔ تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ آواز آئی کہ چلو قبرستان لے چلتے ہیں اور بچے کے باپ یعنی میرے کزن نے بچہ کی لاش کو گود میں لیا اور ہم قبرستان کی طرف چل پڑے۔ قبرستان جانے کہ بعد قبرستان میں جگہ ڈھونڈنے لگے چونکہ قبرستان بہت چھوٹا سا تھا تو جگہ ڈھونڈنے میں تھوڑا وقت لگ گیا اور آخرکار قبرستان کے ایک کونے میں جگہ نظر آئی تو وہاں میرے انکل نے قبر کھودنا شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے قبر مکمل کھود لی اور میرے ہے سامنے اس معصوم بچے کو اس کے دادا جان نے اپنے ہاتھوں سے قبر میں ڈال دیا، لازم ہے مسلمان ہیں یہ سب کرنا لازم تھا اور اسکے بعد فاتحہ اور دعا کی اور قبرستان سے واپس گھر کی طرف چل پڑؑے۔ چلتے چلتے راستے میں مجھے خیال آیا کہ یہ بچہ تو بہت ہی چھوٹا سا تھا اور اس نے تو کوئی گناہ بھی نہیں کیا اور نہ ہی کسی کو کوئی تکلیف دی اور نہ ہی کسی کا دل دکھایا اور نہ ہی کوئی جھوٹ بولا لیکن اس کو بھی قبر میں ڈال آئے۔ ابھی گھر پہنچا نہیں تھا کہ ذہن میں سوال پیدا ہوا کہ کیا مجھ سے پیار و محبت کے دعویدار بھی مجھے یوں ہی اکیلے ایک زمین میں ایک کھڈاکھوڈ کر جس کو قبر کہتے ہیں اس میں ڈال آئیں گے؟ ابھی سوال ختم ہوا ہی تھا کہ میرے سامنے ایک ایسا شخص آگیا جس کا میں نے بہت دل بھی دکھایا اور مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں نے تو نہ صرف اسکا دل دکھایا بلکے اور بھی ناجانے کتنوں کا دل دکھایا ہوگا کتنوں سے جھوٹ بولا، گناہوں کی ایک لمبی فہرست ہے تو یہ لوگ مجھے کیوں نہیں زمین بوس کرینگے بلکے یہ تو مجھے کہیں گے کہ زیادہ دیر مت رکھوں بدبو آئے گی لاش سے جلدی جلدی دفنا دو۔ یہ جو دنیا میں محبت کے دعویدار ہیں یہ صرف موت سے پہلے تک ہیں موت آتے ہی ان سب نے زمین بوس کردینا ہے لیکن ایک ذات ہے جس کی محبت ہمیشہ کام آئے گی وہ رب کی اور رب کے محبوب ﷺ کی محبت تو کیوں نہ ہم سب سے بڑھ کر اس ذات سے محبت کریں جس کی محبت ہمیشہ کام آنی ہے۔۔

Popular posts from this blog

General Knowledge - Questions Answers

  📚* جنرل نالج بہترین سوالات و جوابات سوال : وہ جھیل کس ملک میں ہے جس کی سطح کا پانی شربت کی طرح میٹھاہے مگر سطح کے تین فٹ نیچے کا پانی کڑواہے؟ جواب: جرمنی میں۔ سوال: وہ کون سا پرندہ ہے جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتا ہے ؟ جواب: چمگاڈر۔ سوال: وہ کون سا ملک ہے جہاں چڑیا نہیں پائی جاتی ہے؟ جواب: چین۔ سوال: وہ کونسا جانور ہے جس سے شیر بھی ڈرتا ہے ؟ جواب: سیمیہ (شکونڑ)۔ سوال: وہ کونسے جانور ہے جو مختلف رنگوں میں فرق نہیں کر سکتے ؟ جواب: گدھ اور بندر۔ سوال: اس مکڑی کا نام بتائیں جو ۳۰ سال تک زندہ رہ سکتی ہے؟ جواب: ٹرنٹولا نامی مکڑی۔ سوال: انسان کے بعد دنیا کی ذہین ترین مخلوق کونسی ہے ؟ جواب: مکڑی ، ڈولفن اور چمنیزی بندر۔ سوال: بندر کے کتنے دماغ ہوتے ہیں ؟ جواب: دو۔ سوال: وہ کونسا ملک ہے جہاں کوئی دریا نہیں ہے ؟ جواب: کویت۔ سوال: چین کی سرحدیں کتنے ملکوں سے ملتی ہیں ؟ جواب: ۱۳ ملکوں سے۔ سوال: کے ٹو کا دوسرا نام کیا ہے ؟ Mount Godwin Austen :جواب سوال: پرندوں کا درجہ حرارت کتنا ہوتا ہے؟ جواب: ۱۱۲ درجہ فارن ہائیٹ۔ سوال: اس روشنی کا نام بتائیں جو ایک شہد کی مکھی تو دیکھ سکتی ہے مگر انسان ن...

Who has killed peoples most of in the world's history?

دنیا کی تاریخ میں کس نے سب سے زیادہ قتل کئے ھیں ؟ ھٹلر آپ جانتے ھیں وہ کون تھا؟ وہ عیسائی تھا ، لیکن میڈیا نی کبھی اسکو عیسائی دھشت گرد نہیں کہا  جوزف اسٹالن اس نے بیس ملین (ایک ملین -دس لاکھ کے برابر) انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ، جسمیں سے ساڑھے چودہ ملین بھوک سے مرے . کیا وہ مسلم تھا؟ ماوزے تنگ اس نے چودہ سے بیس ملین انسانوں کو مارا کیا وہ مسلم تھا؟ مسولینی چار لاکھ انسانوں کا قاتل ھے کیا وہ مسلم تھا؟ اشوکا اس نے کلنگا کی جنگ میں ایک لاکھ انسانوں کو مارا کیا وہ مسلم تھا؟ جارج بش کی تجارتی پابندیوں کے نتیجے میں صرف عراق میں پانچ لاکھ بچے مرے انکو میڈیا کبھی دہشت گرد نھیں کھتا آجکل جھاد کا لفظ سن کر غیر مسلم تشویش میں مبتلا ھوجاتے ھیں  جبکہ جہاد کا مطلب معصوموں کو مارنا نھیں، بلکہ برائی کے خلاف اور انصاف کے حصول کی کوشش کا نام جھاد ھے چند اور حقائق پہلی جنگ عظیم میں 17 ملین لوگ مرے اور جنگ کا  سبب  غیر مسلم تھے دوسری جنگ عظیم میں 50-55 ملین لوگ مارے گئے اور  سبب؟ ...

Sarim Noor Honored with "Nishan-e-Wafa" Award

Sarim Noor Honored with "Nishan-e-Wafa" Award by Minhaj Youth League Karachi February 28, 2017 - Karachi, Pakistan In a remarkable event held in Karachi, the Minhaj Youth League Karachi (MYL Karachi) proudly presented the prestigious "Nishan-e-Wafa" award to its highly active and dedicated divisional member, Sarim Noor. This award was conferred upon him in recognition of his tireless efforts and unwavering commitment to the cause of the Mustafavi Revolution. The ceremony took place in a grand gathering, where esteemed dignitaries, MYL members, and supporters of the mission came together to celebrate the contributions of individuals who have played a significant role in spreading the message of peace, unity, and justice. The award was presented by Mr. Qazi Zahid Hussain, Mr. Rana Tajammul, and Mr. Mirza Junaid Ali , along with other respected senior members, including Bashir Khan Marwat, Shahid Malik, Faheem Khan, and Naeem Ansari . Their presence further highlighted...