Posts

Image
"ایک سوچ"
میں بس اسٹاپ پہ کھڑا اس شخص کو جو دیکھنے میں کافی ہینڈسم اور پڑھا لکھا 
نظر آرہا تھا کافی دیر سے گھور رہا تھا کیونکہ وہ شخص اتنی ہی دیر سے بس 
اسٹاپ پہ کھڑی ایک اکیلی خاتون کو مسلسل گھورے جارہا تھا جو کچھ ہی فاصلہ 
پر کھڑیں تھیں۔تھوڑی ہی دیر میں ایک بس کو خاتون نے رکنے کا اشارہ کیا،
بس اسٹاپ پر آکر رکی اورخاتون بس میں سوار ہوگئی۔ خاتون تو چلی گئیں لیکن 
میں نے اس شخص کو گھورنا نہیں چھوڑا کیونکہ میری نیت 
اسے اس بات کا احساس دلانا تھا کہ 
کسی کو کسی کا گھورنا کس قدر برا لگ سکتا ہے اور ہوا بھی یہی 
تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ شخص میری طرف آیا اور آتے ہی میرا گریبان 
پکڑلیا۔ میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے اس سے کہا ارے بھائی کیا ہوا؟ چھوڑیں میرا 
گریبان۔ بلا وجہ میں گلے پڑ رہے ہیں۔اس نے کہا ابے تو مجھے اتنی دیر سے 
کیوں گھور رہا ہے؟
میں نے کہا، کیا ہوا بھائی؟ آپ کو دیکھنا گناہ ہے کیا؟
جب آپ بس اسٹاپ پہ کھڑی اس خاتون کو گھور رہے تھے تو میں آپ کو گھورنے
Image
حضرت بلال کی آخری اذان جسے ﺳﻦ ﮐﺮ ﭘﻮﺭﺍ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﺭﻭ ﺩﯾﺎ:ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﮯ ﻭﺻﺎﻝ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ نے قسم کھائی کے میں آج کے بعد، میں اذان نہیں دوں گا "کیونکہ اگر نبی ﷺ کا دیدار نہیں تو اذان بھی نہیں"مدینے میں رہنا مشکل ہوا تو ملک شام چلے گئے. 6 مہینے مدینے لوٹ کر نہیں آئے تو اللہ کے نبی ﷺ خواب میں ملے اور فرمانے لگے.ﺍﮮ ﺑﻼﻝ.. ﯾﮧ ﮐﯿﺎ بے ﻭﻓﺎﺋﯽ؟ ہمارے شہر آنا ہی چھوڑ دیا؟ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ کو یوں لگا کے آپ ﷺ ابھی حیات ہیں اور بلا رہے ہیں تو آپ نے ﺍﻭﻧﭩﻨﯽ کو تیار کیا، 7دن اور 7رات سوائے نماز اور حاجت کے آپ کہیں نہیں رکے، چل سو چل.. چل سو چل..جیسے ہی ﻣﺪﯾﻨﮧ پہنچے تو شور مچا دیا کہ یا رسول اللہ میں آ گیا یا رسول اللہ میں آ گیا.. آگے دیکھا تو قبر مبارک، آپ ﷺ تو تھے نہیں تو غش کھا کر قبر پر گر گئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ میں تو آ گیا آپ کہاں چلے گئے..؟؟ﻣﺪﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺧﺒﺮ آگ کی طرح ﭘﮭﯿﻞ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﻣﺆﺫﻥِ ﺭﺳﻮﻝ ﺣﻀﺮﺕ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ واپس مدینہ تشریف لے آئے ﮨﯿﮟ.نماز کا وقت آ گیا اور سارے مدینے والوں کی خواہش کے آج حضرت بلال اذان دے لیکن سب کو پتا ہے کہ بلال قسم کھا چکا ہے کے اذان نہیں د…