مجھے آج بھی وہ پریس کانفرنس یاد ہے جب اُس وقت کے وزیر اطلاعات پرویز رشید اور سابق ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم باجوہ کی موجودگی میں بھارتی جاسوس کی گرفتاری ظاہر کی گئی تھی اور قوم کو بتایا گیا تھا کہ ملک کو نقصان پہنچانے کے لئے دشمن کتنے بڑے پیمانے پر منصوبہ بندی کررہا ہے اور اِس منصوبہ بندی کو عملی جامہ پہنانے والا بندہ اب ریاستی اداروں کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ اُسی پریس کانفرنس میں کلبھوشن یادو کی ویڈیو بھی جاری کی گئی جس میں اُس نے اپنے تمام منصوبوں کے بارے میں بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اُس کو خصوصی طور پر بلوچستان اور کراچی کے حوالے سے ٹارگٹ دیئے گئے ہیں۔ اِس پریس کانفرنس کی خاص بات جہاں ایک طرف کلبھوشن یادو کی گرفتاری ظاہر کرنا تھی، وہیں پریس کانفرنس کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی اہمیت سے بھرپور تھا۔ اُس وقت صحافیوں نے کیا سوال کئے اور پرویز رشید نے کیا جواب دیئے، آئیے اُس پر کچھ بات کرتے ہیں۔
 سوال: سننے میں آیا ہے کہ گزشتہ دنوں پنجاب کی ایک شوگر مِل سے کچھ ’را‘ کے جاسوس پکڑے گئے ہیں اُس کے بارے میں بھی بتائیے۔
 جواب: چونکہ یہ پریس کانفرنس آپ کی خواہش پر صرف کلبھوشن یادو کے حوالے سے رکھی گئی ہے لہذا مہربانی فرما کر اِسی سے متعلق سوال کیجیے، دوسرے معاملات میں ہم بعد میں بات کرلیں گے۔
 سوال: جیسا کہ ماضی میں بھی ریمنڈ ڈیوس کو چھوڑ دیا گیا ہے تو کیا حکومت اِس بار یہ یقین دہانی کروائے گی کہ اب ایسا نہیں ہوگا اور بھارتی ایجنٹ کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا؟
 جواب: دیکھئے ابھی تحقیقات ہورہی ہیں، اِس حوالے سے عدالت میں کیس جائے گا اور فیصلہ بہرحال عدالت نے ہی کرنا ہے۔
 سوال: گزشتہ روز وزیراعظم پاکستان نواز شریف نے خطاب کیا ہے تو کیا یہ بہتر نہیں ہوتا کہ وزیراعظم صاحب اِس ایجنٹ کی گرفتاری سے متعلق بات کرتے؟ یا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اتنا بڑا ایشو نہیں ہے؟
 جواب: پاکستان نے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے، ذمہ داری پوری کرنے کے جو مروجہ طریقے ہیں اُن کو اپنایا گیا جیسے خارجہ امور پر سفارتکار سے احتجاج کیا گیا، اور جہاں تک وزیراعظم کی بات ہے تو وہ اپنی قومی ذمہ داری کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔
 یہ وہ چیدہ چیدہ سوال و جواب تھے جن کے ذریعے باآسانی سمجھ آسکتا ہے کہ پرویز رشید اِس معاملے میں کوئی بھی واضح موقف اختیار کرنے کے لئے تیار نہیں۔
 اگر معاملہ یہاں تک ہی رہتا تو بات سمجھ آتی ہے کہ ابھی بہت جلدی ہے اِس پر بات کرنا، لیکن حیران کن طور پر 3 مارچ 2016ء کو گرفتار ہونے والے کلبھوشن یادو کا نام وزیراعظم پاکستان نے آج تک نہیں لیا۔
3 مارچ 2016ء سے 10 اپریل 20177ء تک کلبھوشن یادو کا پورا کیس پاکستان آرمی کے پاس رہا حتٰی کہ پھانسی دینے سے متعلق فیصلے کا اعلان بھی جمہوری حکومت کے نمائندے نے نہیں بلکہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی ٹوئٹ کے ذریعے کیا۔

Post a Comment

Popular posts from this blog