ٹی وی شو میں تھا جب فیصلہ آیا. میں نے سٹیٹس اپ لوڈ کیا کہ واقعی یہ فیصلہ صدیوں یاد رکھا جائے گا. شو سے فارغ ہو کر دیکھا تو تمام احباب نے اس کا منفی مطلب سمجھ کر تبصرے کیے ہوئے تھے. حالانکہ میں سمجھتا ہوں یہ واقعی ایک شاندار فیصلہ ہے. اور واقعی یاد رکھا جائے گا.
میں ایسا کیوں کہہ رہا ہوں میں عرض کر دیتا ہوں.
11 دو ججز نے کہا نواز شریف صادق اور امین نہیں رہے اور تین نے کہا ذرا مزید تحقیق کر لی جائے. یعنی کسی ایک نے بھی یہ نہیں کہا کہ نواز شریف صادق اور امین ہیں.
2. سپریم کورٹ ٹرائیل کورٹ نہیں. اس عنصر کو پورا کرنے کے لیے جے آئی ٹی بن گئی. سپریم کورٹ فیصلہ کر دیتی تو کہا جاتا یہ ٹرائیل کورٹ نہیں تھی اس نے تحقیق کے بیر فیصلہ دے دیا. اب جے آئی ٹی تحقیق والا پیلو بھی پورا کر دے گی.
3 جے آئی ٹی میں آءی ایس آئی نہیں ایم آئی کا بندہ ہو گا. یہ قابل غور ہے. آئی ایس آئی وزیر اعظم کے ماتحت ہے ایم آئی نہیں. اس کے ساتھ ایف آئی اے نیب اور ایس ای سی پی کے لوگ ہوں گے.
4. یہ معینہ مدت میں عدالت کو رپورٹ کریں گے نہ کہ اپنے اداروں کو. یہ اسے لٹکا نہیں سکیں گے. ٹائم فریم طے کر دیا گیا ہے
5. جے آئی ٹی کی تحقیق کا دائرہ بھی طے کردیا گیا ہے. ان کا دائرہ کار یہ ہے کہ منی ٹریل چیک کریں. ساتھ ہی منی ٹریل میں سپریم کورٹ نے طے کر دیا کہ قطری خط کی کوئی اہمیت نہیں. اب نواز اینڈ فیملی منی ٹریل کیسے ثابت کرے گی؟ خط کی بات کرے گی تو وہ بات مانی نہیں جاءے گی. کوی نیا بہانہ لاءے گی تو یہ غلط بیانی کے زمرے میں آءے گا اور جھوٹ بولنے والا صادق اور امین نہیں رہتا.
خاطر جمع رکھیے. اور جشن فتح کا اعلان کرتے خواجہ صاحبان کی باڈی لینگویج کو ایک بار پھر غور سے دیکھیے. آپ کو سمجھ آ جائے گی تجربہ کاروں کے ساتھ ہوا کیا ہے.
Post a Comment

Popular posts from this blog