"موجودہ حالات کے ذمہ دار کوئی اور نھیں ھم(عوام) خود ھیں۔"
اس نے ھمارے ملک پاکستان کو لوٹا، اس نے مھنگائی کی، اس نے یہ کیا اس نے وہ کیا، اس نے ڈھانڈلی کی تو اس نے ملک کا امن خراب کیا، آجکل اس طرح کے جملے ھم(عوام) اپنے زبان سے کھتے رھتے ھیں اور سامنے ایک شخص ھوتا ھے جو بھت مزے سے سنتا ھے اور پھر وہ بھی کچھ اسی طرح کے جملے تھوڑا اور مرچ مصالحہ لگا کر کھتا ھے مگر افسوس کبھی ھم یہ نھیں سوچتے کہ ھم نے خود کیا کیا ؟ اورنہ ھی اپنے گریبان میں جھاک کر دیکھتے ھیں کہ اس نے تو جو کیا وہ کیا لیکن ھم نے کیا کیا ؟؟؟
• پاکستان کی موجودہ حالت(کرپشن، غربت، قتل عام، ناانصافی) کو دیکھتا ھوں تو وہ حدیث مبارک یاد آتی ھے جس کا مفھوم کچھ یوں ھے کہ "جیسی رعایاں(عوام) ھوگی ان پر ویسے ھی حکمران مسلط کیۓ جائینگے"(اللہ تعالی کمی بیشی معاف کرے) مگر اس حدیث مبارک کے بعد کچھ کھنا باقی نھیں رھتا سوائے اس کے کہ پھلے ھمیں اپنے گریبان میں جھاکنا چاھئے نہ کہ کسی اور کے گریبان میں، آج پاکستان کی جو بھی حالت ھے اس کا ذمہ دار نہ کوئی حکمران ھے، نہ تو کوئی محافظ اور نہ ھی کوئی منصف، اس کے ذمہ دار صرف اور صرف ھم(پاکستانی عوام) خود ھیں اور ھم(عوام) میں سے ھر شخص نے یہ بات بھت بار سنی ھوگی کہ موجودہ حالات کہ ذمہ دار ھم(عوام) خود ھیں لیکن کوئی یہ نھیں سوچتا (بھت سے ھونگے جو سوچتے ھونگے لیکن میں اکثریت کی بات کر رھا ھوں) کے آخر ھم(عوام) ذمہ دار کیسےھیں ؟؟؟
اور ھم(عوام) میں سے بھت سارے لوگ ایسے بھی ھیں جو کھتے ھیں کہ لوٹ مار حکمران کرتے ھیں، رشوت خوری پولیس اور دوسرے ادارے کے لوگ کرتے ھیں، دھشتگردی فتنہ فساد لوگ، طالبان وغیرہ کرتے ھیں تو جب یہ سب کچھ ھم(عوام) نھیں کرتے تو ھم ذمہ دار کیسے ؟؟؟
میں ان سب کو بھت ھی آسان لفظوں میں بتانا چاھتا ھوں کہ ھم ذمہ دار کیسے اور کیوں ھیں،
•جب کوئی صدر، وزیراعظم یعنی ملک کا سربراہ بنتا ھے تو وہ خود نھیں بنتا بلکے اس کو صدارت پر ھم(عوام) خود بیٹھاتے ھیں
•جب کوئی اداراہ یا کوئی گورنمنٹ سرونٹ رشوت لیتا ھے تو رشوت دینے والا کوئی اور نھیں ھم(عوام) خود ھوتے ھیں
•جب کھیں دھشگردی ھوتی ھے تو وہ دھشتگرد کوئی اور نھیں ھوتا بلکے ھم(عوام) میں سے ھی کسی کا بھائی یا کسی کا بیٹا ھوتا ھے
ھمیں سوچنا چاھیئے کہ آخر ھم(عوام) سے کہاں کہاں غلطیاں ھوئی اور ھم(عوام) ان غلطیوں کو کیسے صحیح کرسکتے ھیں؟؟؟
میرے نزدیک اگر ھم(عوام) نے کسی غلط اور نااھل انسان کو صدرات پر بیٹھا دیا ھے تو ھمیں(عوام) اسکا بھی آخرت میں جواب دینا ھوگا تو بھتر ھے کہ ھم(عوام) اپنی غلطی کو جلد سے جلد درست کرلیں تا کہ آخرت میں جواب طلبی نہ ھو اور اگر کوئی پوچھتا ھے کہ کیسے کریں تو اسکا بھت آسان اور سادہ سا جواب ھے کہ جیسے بیٹھایا تھا اسی طرح ھٹا دیں اور پھر بھی اگر کوئی کھتا ھے کہ وہ تو غنڈا راج قائم کرچکا ھے اب ھم کچھ نھیں کرسکتے تو میں کھونگا کہ یہ ایک مایوسی سوچ ھے اور مایوسی کفر ھے، ھر ظالم دور میں کچھ ایسے لوگ ضرور ھوتے ھیں جو حق کی آواز بلند کرتے ھیں تو ھمیں(عوام کو) چاھیئے کہ انکے ساتھ ملکر اپنی کی ھوئی غلطی کو درست کریں اور صحیح اور اھل کو صدارت پر بیٹھائیں،
اور رھی بات رشوت کی تو جب ھم(عوام) کسی کو رشوت دینگے ھی نھیں تو وہ رشوت لے گا بھی نھی اور اسطرح ھم(عوام) بھی اس گناہ کبیرہ سے بچ جائینگے (مگر افسوس آج میں اس گناہ کبیرہ سے نھیں بچ سکا یا اللہ میرے اس گناہ کبیرہ کو معاف کردے) اور سامنے والے کو بھی بچا لینگے،
اگر ھم چاھتے ہیں کہ ہمارے بچے دھشگرد نہ بنیں اور دھشتگردی کا شکار نہ ھوں اور ملک میں امن و امان قائم رھے تو ھمیں چاھیے کہ ھم اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں اور ایسے استاد اور ٹیچرز کے پاس بھیجیں جو امن پسند ھوں اور اگر کوئی کھتا ھے کہ ایسے استاد ٹیچرز ملینگے کھاں اور کیسے پھچانینگے تو بابا سادہ سی بات ھے ھر دور فتنہ میں امن کے داعی ضرور ھوتے ہیں اور انکی پھچان ھوتی ھے کہ وہ ان فتنہ کے خلاف جدوجھد کرتے رہتے ہیں اور موجودہ دور میں اگر نظر دوراؤں تو مجھے ایسے بھت سے شخص نظر آتے ھیں جو امن کے داعی ھیں لیکن اگر بات ھو دور حاضر میں سب سے بڑے امن کے داعی کی تومیری نظر میں وہ شیخ الاسلام علامہ ڈاکٹر محمد طاھرالقادری صاحب ھیں جنھوں نے موجودہ دور کا فتنہ "دھشتگردی" کے خلاف پوری دنیا میں جدوجہد کی اور 600صفحات پر مشتمل دھشتگردی کے خلاف فتویٰ دیا اور پوری دنیا کو اورخصوصی عالم مغرب کو یہ بات بتائی اور تسلیم کراوائی کہ "دین اسلام کا دھشتگردی سے کوئی تعلق نھی، دین اسلام میں دھشتگردی کی اجازت ھی نھیں، دین اسلام پیار، محبت اور امن پسند والا مذھب ھے" تو ھمیں چاھئیے کہ ھم(عوام) اپنے بچوں کی تربیت ایسے ٹیچرز کی تعلیمات سے کریں جو امن کے داعی ھوں،
اس طرح ھمارے(پاکستان کے) بچے نہ تو دھشتگرد بنینگے اور نہ ھی دھشتگردی کا شکار بنینگے اور ملک میں بھی امن و امان قائم رھے گا اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ھوگا، "انشاءاللہ"
Post a Comment

Popular posts from this blog